Al-Risala · November 2004 · page 24

hammering, hammering, hammering.....

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۲۴

میڈیٹیشن (meditation) جیسی مشقیں اصل مقصد کی نسبت سے سراسر بے فائدہ اور غیر متعلق ہیں ۔ روحانی مقصد کے حصول کے لئے ساری اہمیت اس رخ پر ذہنی ارتقاء، (intellectual development) کی ہے۔

اس دریافت سے مجھے معلوم ہوا کہ مسلم صوفیوں کا اپنے قلب پر دھیان لگانا یا ہندو سوامیوں کا اپنے ذہنی عمل کو روک کر اپنے داخل میں دھیان لگانا، یہ سب سراسر غیر متعلق باتیں ہیں۔ وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے ہاتھ پر توجہ ڈال کر اس پر ضرب لگائے یا اپنے پاؤں کو سامنے رکھ کر اس پر دھیان جمائے۔ پچھلے ہزاروں سال کے دوران لوگ اسی قسم کی غیر متعلق ورزشیں کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ حقیقی روحانیت سے آشنا نہ ہوسکے۔

سائنس نے ہم کو جو نعمتیں دی ہیں ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے روحانیت کے متلاشی لوگوں کے لئے صحیح روحانی مرکز کی نشان دہی کی۔ اس نے بتایا کہ دل کو مرکز بنا کر تم جو چیز حاصل کرنا چاہتے ہو وہ دراصل ذہن کو مرکز بنا کر حاصل ہوگی۔ انسان کا ذہن اپنے اندر بے شمار صلاحیتیں رکھتا ہے۔ انسان کے تمام افعال کا مصدر دماغ ہی ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں روحانی مرتبہ کو حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ ذہن کے روحانی گوشہ کو بیدار کیا جائے۔ ذہن میں فکری انقلاب لانا ہی روحانی ارتقاء کا ذریعہ ہے۔ روحانیت کی منزل تک پہنچنے کا راستہ دل سے ہو کر نہیں جاتا، بلکہ وہ دماغ کے راستہ سے ہو کر گزرتا ہے۔

یہ سائنسی حقیقت قرآن میں پہلے سے موجود ہے۔ چنانچہ قرآن میں روحانیت (رثانیت) کے حصول کے لئے جس چیز کو ذریعہ بتایا گیا ہے وہ تفکر اور تذکر اور توسم ہے۔ اس قسم کے الفاظ جو قرآن میں استعمال کئے گئے ہیں ان سب کا تعلق ذہنی بیداری سے ہے نہ کہ قلبی ورزش سے۔ غالباً اسی حقیقت کی طرف قرآن میں اولوالالباب (آل عمران ۷) کے الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ قرآن میں بار بار قلب کا لفظ استعمال ہوا ہے (البقرہ ۲۶۰) مگر یہ ادبی معنوں میں ہے نہ کہ علمی معنوں میں۔ مثال کے طور پر قرآن میں ارشاد ہوا ہے: فاعتبروا یا اولی الابصار

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page