سیاسی اختلاف
الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۶
فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی اتحاد Communal Harmony and National Integration برصغیر ہند لمبی جدوجہد کے بعد ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو آزاد ہوا۔ یہ آزادی دو قومی نظریہ کے اصول پر ہوئی۔ تاہم جو چیز تقسیم ہوئی وہ جغرافیہ تھا، نہ کہ قوم۔ یعنی انڈیا اور پاکستان کے نام پر دو ملک بن گئے مگر دونوں قوم کے افراد دونوں حصوں میں بدستور آباد رہے۔ یہ ایک خطر ناک صورت حال تھی۔ کیوں کہ قومی جھگڑے کو ختم کرنے کے نام پر ملک کو تو تقسیم کر دیا گیا مگر قوم بدستور غیر منقسم رہی۔ اس طرح زمینی بٹوارہ کے باوجود نزاعی صورت حال بدستور قائم رہی، بلکہ زیادہ شدت کے ساتھ۔ پہلے اگر وہ دو بے اقتدار قوموں کا جھگڑا تھا تو اب وہ دو با اقتدار ریاستوں کا جھگڑا بن گیا۔ اس مسئلہ کی نزاکت کو مہاتما گاندھی نے پہلے ہی دن محسوس کر لیا تھا۔ چنانچہ آزادی کے وقت انہوں نے اپنے ایک مضمون میں یہ تاریخی الفاظ لکھے تھے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کو امن اور ہم آہنگی سے ایک ساتھ رہنا ہوگا، ورنہ میں اس کوشش میں اپنی جان دے دوں گا:
Hindus and Musalmans should learn to live together with peace and harmony, otherwise I should die in the attempt. سوئے اتفاق سے مہاتما گاندھی کو آزادی کے جلد ہی بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ بلاشبہ بہت بڑا حادثہ تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امن و اتحاد قائم کرنے کا عمل اپنے پہلے ہی مرحلہ میں اپنے سب سے بڑے لیڈر سے محروم ہو گیا۔
جیسا کہ معلوم ہے، آزادی کے ساتھ ہی خط تقسیم کے دونوں طرف فرقہ وارانہ تشدد ایک بھیانک عمل کی صورت میں شروع ہو گیا۔ تشدد کا یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔ آخر کار اُس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اس مسئلہ پر ایک نیشنل کانفرنس بلائی۔ اس کا اجلاس نئی دہلی میں ۲۸ ستمبر سے یکم اکتوبر ۱۹۶۱ تک جاری رہا۔ اس کانفرنس میں اتفاق رائے سے ایک آرگنائزیشن (تنظیم) کی
‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues