کجا کارے کند عاقل که باز آید پشیمانی
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۳۰
مخالف فسادات میں مارے جانے والے اکثر افراد کے ورثاء کو ۱۰-۱۰ لاکھ روپے کا معاوضہ مل چکا ہے۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سکھوں کے معاملہ میں سپریم کورٹ کے پاس کردہ حکم کو ایک معیار تسلیم کرتے ہوئے دیگر فساد زدگان کو بھی یہی رقم ادا کریں۔ مگر افسوس ہے کہ سکھوں کے علاوہ آج تک کسی اور فساد زدہ طبقہ کو مذکورہ معاوضہ نہیں مل سکا ہے۔ مگر نئی حکومت کے مشترکہ پروگرام سے یہ نکتہ غائب ہے کہ تمام فساد زدگان کو معاوضہ کی یکساں رقم ادا کی جائے گی۔ موجودہ سیکولر حکومت بے گناہوں کے خون کی قیمت پر وجود میں آئی ہے۔ ایسی حالت میں حکومت کی یہ اولین ترجیح ہونی چاہئے کہ وہ فرقہ پرستوں کی گوشمالی کرے۔ اس کے علاوہ فرقہ وارانہ فسادات میں جن طبقات پر بربادی آئی ہے ان کی باز آبادکاری کے اقدامات بھی کرے۔ جب دو فیصد سکھوں کے لئے انصاف کا بڑا بھاری عمل اختیار کیا جا سکتا ہے تو ۱۵ فیصد مسلمانوں کے لئے کیوں نہیں۔ ‘‘ یہ بات شاعری کی اصطلاح میں صرف ایک مضمون بندی ہے۔ اس قسم کی بات کرنے والوں کو یہ جاننا چاہیے کہ سکھوں کو جو کچھ ملا وہ اس طرح نہیں ملا کہ انھوں نے اپنی سکھ پارٹی کو ہرایا اور پر سکھ پارٹی کو جتاؤں کی انتخابی پالیسی اختیار کی۔ سکھوں کو جو کچھ ملا ہے وہ ان کی اپنی طاقت کے زور پر ملا ہے۔ مسلمانوں کو بھی جو کچھ ملے گا وہ ان کی خود اپنی طاقت کے بل پر ملے گا۔ شکایت اور احتجاج اور مطالبہ سے اس دنیا میں کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔
ہندی روز نامہ پنجاب کیسری (۳ جون ۲۰۰۲) کے پہلے صفحہ پر ایک خبر چودھویں لوک سبھا میں حلف برداری کی رسم کے بارہ میں تھی۔ اس کا ایک جز، کانگریسی لیڈر اجیت جوگی کے بارہ میں تھا۔ اس کے الفاظ یہ تھے:
’’کانگریس کے ورشٹھ نیتا اجیت جوگی نے آج وہیْل چیئر پر بیٹھے ہوئے لوک سھا سدسیتا کی شپتھ لی۔ چھتیس گڑھ میں مہاسمند سے زراچت جوگی چناؤ پرچار کے دوران ایک سڑک در گھٹنا میں گمبھیر روپ سے گھائل ہو گئے تھے۔ جوگی سدن کے دروازے تک وہیْل چیئر پر بیٹھ کر آئے اور انہوں نے دروازہ پر ہی ویشیش مائک کی ویوستھا سے شپتھ لی۔ بعد میں سدسیوں کے رجسٹر پر بھی ان سے وہیں
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues