Al-Risala · November 2004 · page 31

کجا کارے کند عاقل که باز آید پشیمانی

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۳۱

جا کر ہنستا کھکر کرائے گئے۔ پشتھ لینے پر دسیوں نے تالیاں بجا کر اور میزیں تھپتھا کر ان کا سو اگت کیا۔ کئی سدس ان کا ابھیودن کرنے ان کے پاس گئے۔ “ مسٹر جیت جوگی کے بارے میں یہ خبر دیکھ کر مجھے کئی سال پہلے کا واقعہ یاد آیا جب کہ ان سے میری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ یہ ملاقات بھوپال کے ائیر پورٹ پر ہوئی تھی۔ یہ واقعہ ماہنامہ الرسالہ میں چھپ چکا ہے۔

۳ جون کو نئی دہلی کے ریلوے اسٹیشن پر ایک واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ ایک اردو اخبار میں عنوان کے ساتھ چھپا: لالو کے دورہ نے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کی تقدیر بدل دی۔ اس عنوان کے تحت اردو اخبار میں جو خبر چھپی تھی اس کو یہاں کسی تبدیلی کے بغیر نقل کیا جار ہا ہے: ”ریلوے انکوائری کا نمبر ملانے پر فون نہ اٹھانے سے ناراض وزیر ریلوے لالو یادو خود ہی نئی دہلی ریلوے اسٹیشن میں واقع انکوائری آفس میں جا پہنچے۔ وہاں کا نظارہ دیکھ کر لالودم بخوردہ رہ گئے۔ زیادہ تر ملازم اپنی سیٹوں پر نہیں تھے۔ پھر کیا تھا، انہوں نے اپنے مخصوص اسٹائل میں افسروں کی ’کلاس لی۔ آج اسٹیشن کا نظارہ ہی بدلا ہوا تھا۔ انہوں نے کل رات تقریباً آٹھ بجے ریلوے انکوائری نمبر پر بات کرنی چاہی۔ گھنٹی بجتی رہی کسی نے ٹیلی فون نہیں اٹھایا۔ اس پر غصہ ہو کر وہ اسٹیشن چل پڑے ۔ وہاں دیکھا کہ گھنٹیاں بج رہی ہیں اور کوئی ملازم نہیں ہے۔ انہوں نے خود کئی فون اٹینڈ کئے ۔ اس کے بعد انکوائری کاونٹر پر گئے ۔ وہاں مسافر تو تھے مگر کوئی ملازم نہیں تھا۔ اس کے بعد وہ پلیٹ فارم نمبر ایک چار پانچ پر پہنچے۔ وہاں گندگی دیکھ کر بھپڑ پڑے۔ انہوں نے متعلقہ ملازمین کو لتاز پلائی اور کارروائی کرنے کی وارننگ دی۔ واپسی میں راستے میں موجود لٹرین کی حالت دیکھ کر ان سے رہا نہیں گیا اور اس کے ملازمین کو خوب لتاڑا۔ پھر انہوں نے مسافروں سے بات چیت کی۔ ویٹنگ روم میں پنکھانہ چلنے کی شکایت پر انہوں نے سخت رویہ اپنایا۔ تقریباً ایک گھنٹہ تک ریلوے اسٹیشن کا معائنہ کرنے کے بعد لالو کا پارہ کافی چڑھ گیا تھا اور اس کا نزلہ اندر کمار نامی ملازم پر گرا۔ یہ وہی ملازم ہے جس کی ڈیوٹی انکوائری کاونٹر پر تھی اور جب وزیر موصوف وہاں پہنچے تو حضرت اپنی سیٹ سے غائب تھے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page