Sachdeva was armed with an anticipatory
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۳۲
انہوں نے اندر کمار کو معطل کر دیا۔ اس کے علاوہ کال سینٹر پر کام کرنے والے ایک ملازم کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کا حکم دیا۔ لالہ یادو پلیٹ فارم چار اور پانچ کے وینڈروں کے پاس بھی گئے اور اسٹال پر موجود کلپڑا اٹھا کر دیکھا اور اس کی سلائی کے بارے میں جانکاری لی۔ ان کے دورے کا یہ جادوئی اثر ہوا کہ پلیٹ فارم چمکنے لگے۔ خراب پنکھے ٹھیک ہو گئے ، انکوائری کا وینڈروں پر ایک کے بجائے دو دو ملازم تعینات کر دیئے گئے۔ گندگی کے نام پر کاغذ کا ایک ٹکڑا تک نظر نہ آیا۔ گندے پڑے پیشاب گھر کی شیٹیں بدل دی گئیں اور نالیوں میں ڈی ڈی ٹی کا پاوڈر ڈال دیا گیا گویا مسافروں کو فیل گڈ ہو رہا ہے۔ “ یہی اصلاح کا صحیح طریقہ ہے۔ منسٹر لوگ اگر سرپرائز وزٹ (surprise visit) کے اس طریقہ کو مستقل طور پر اپنا لیں ، بشرطیکہ وہ اس معاملہ میں سنجیدہ اور صاحب کردار ہوں، تو صرف ۵ سال کی مدت میں پورے ملک میں ایک نیا دور آجائے گا۔ اس کے بعد شائنگ انڈیا صرف ایک نعرہ نہیں رہے گا بلکہ وہ ایک ایسا واقعہ بن جائے گا جس کو ہر آدمی دیکھے اور جس کو ہر آدمی محسوس کرے ۔ ٹائمر آف انڈیا ( ۳ جون ۲۰۰۴) کے صفحہ تین پر ایک عبرت انگیز خبر تھی۔ پچھلے مہینہ سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE) کے امتحان سے پہلے یہ خبر آئی تھی کہ اس کے پرچے پیشگی طور پر آؤٹ ہو گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں پولیس نے متعلقہ دفتر میں کام کرنے والے ایک کمپیوٹر آپریٹر ہمنت شرما (Hemant Sharma) کو گرفتار کر لیا تھا۔ ہمنت شرما نے پولیس کے سامنے انکشاف کیا تھا کہ اس معاملہ میں اصل مجرم سدھیر سچدیو (Sudhir Sachdeva) ہے۔ ہمنت شرما کے بیان کے مطابق، سدھیر سچدیو نے سی بی ایس ای (CBSE) کے ملازم کو ۵۰ لاکھ روپے دے کر یہ پرچہ پیشگی طور پر حاصل کئے تھے تا کہ طالب علموں میں اس کو بیچ کر نفع کمائے۔
پچھلے ایک مہینہ سے پولیس کو سدھیر سچدیو کی تلاش تھی۔ مگر پولیس اب تک اس کو پکڑ نہ پائی تھی ۔ کل اچانک وہ خود سے دہلی کی عدالت میں حاضر ہو گیا ۔ مگر پولیس اس کو گرفتار نہیں کر سکتی تھی کیوں کہ اس کے پاس پیشگی ضمانت کا عدالتی آرڈر موجود تھا:
Sachdeva was armed with an anticipatory
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues