bail order from the Cuttack High Court.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۳۳
bail order from the Cuttack High Court.
موجودہ قانونی نظام میں جو خامیاں ہیں ، مذکورہ واقعہ اس کی ایک مثال ہے۔ آج کل ہر دن کثرت سے جرائم ہورہے ہیں۔ عدالتوں میں لاکھوں کی تعداد میں مقدمات موجود ہیں مگر قوانین کی کثرت کے باوجود جرائم میں کمی نہیں ہوتی۔ اس کا خاص سبب یہ ہے کہ ان قوانین میں اتنی لچک موجود ہے کہ ہر مجرم کسی نہ کسی طرح سزا سے بچ جاتا ہے۔ قوانین کی ان کمزوریوں نے ایک لوپ ہول انڈسٹری (loop whole industry) قائم کررکھی ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ مجرم کی جیب میں کافی پیسہ ہو، جس سے وہ ایک قانونی دماغ (وکیل) کو خرید سکے۔ جس آدمی کے اندر یہ قوت خرید موجود ہو اس کو قانونی سزا سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
ہندوستان ٹائمس (۳ جون ۲۰۰۲) میں ایک دلچسپ خبر تھی۔ یہ طلاق کی خبر تھی۔ اس خبر کا عنوان یہ تھا ـــ ٹیلی فونی طلاق:
phoney divorce
خبر میں بتایا گیا تھا کہ اردن کے ایک شخص ابو سمیع نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا۔ شریعت کے ضابطہ کے مطابق ، اس نے اس طلاق کو تین مہینہ میں پورا کیا۔ اس طلاق کی وجہ ابو سمیع نے یہ بتائی کہ میری بیوی انٹرنیشنل ٹیلی فون پر گھنٹوں بات کرتی رہتی تھی۔ چنانچہ اس کے ٹیلی فون کا بل اس کی تنخواہ کی رقم سے تین گنا زیادہ ہو جاتا تھا۔ آخر مجبور ہو کر اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ مذکورہ خاتون کی یہ عادت ناقابل فہم حد تک عجیب ہے۔ اس کے اندر یہ عادت کیوں پڑی ، اس پر غور کرتے ہوئے سمجھ میں آتا ہے کہ غالباً اس کی ابتدائی پرورش جس گھر میں ہوئی وہاں اس کے ماں باپ اور اس کے گھر والے اس کے ساتھ بہت زیادہ لاڈ پیار کا سلوک کرتے تھے۔ اس کے بعد جب اس کی شادی ہوئی اور وہ اپنے شوہر کے گھر آئی تو غالباً اس کے شوہر نے بھی اس کے ساتھ اسی طرح کا لاڈ پیار اور ناز برداری کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں خاتون کا مزاج بگڑ گیا۔ لاڈ پیار یا ناز برداری کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایسی خاتون اپنے آپ میں جینے لگتی ہے۔ غیر شعوری طور پر
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues