Al-Risala · November 2004 · page 34

phoney divorce

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۳۴

وہ سمجھ لیتی ہے کہ میں جو کچھ کروں سب درست ہے، میرا کوئی کام غلط نہیں۔ مذکورہ خاتون کا کیس غالباً اسی قسم کا ایک کیس تھا۔

کامیاب شادی شدہ زندگی دو انسانوں کے درمیان ایڈجسٹمنٹ کا نام ہے۔ ایڈجسٹمنٹ کا یہ مزاج دونوں کے اندر ہونا چاہئے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ دونوں کے تعلقات میں توازن قائم رکھتا ہے۔ جہاں ایڈجسٹمنٹ نہ ہو وہاں توازن ٹوٹ جائے گا جو آخرکار تعلقات کے بگاڑ اور طلاق پر ختم ہوگا ۔ ایک اردو اخبار میں مولا ناسید سلیمان ندوی کا ایک اقتباس شائع کیا گیا تھا۔ اس اقتباس کا عنوان یہ تھا: سیرت محمدی کا تکیلی پہلو ۔ اس عنوان کے تحت جو اقتباس درج تھا اس کی چند سطریں یہ تھیں: " کوئی زندگی خواہ کسی قدر تاریخی ہو جب تک وہ کامل نہ ہو ہمارے لیے نمونہ نہیں بن سکتی۔ کسی زندگی کا کامل اور ہر نقص سے بری ہونا، اس وقت تک ثابت نہیں ہوسکتا جب تک اس کی زندگی کے تمام اجزاء ہمارے سامنے نہ ہوں ۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کا ہر لمحہ پیدائش سے لے کر وفات تک آپ کے زمانہ کے لوگوں کے سامنے اور آپ کی وفات کے بعد تاریخ عالم کے سامنے ہے۔ آپ کی زندگی کا کوئی مختصر سے مختصر زمانہ بھی ایسا نہیں گزرا جب وہ اپنے اہل وطن کی آنکھوں سے اوجھل ہو کر آئندہ کی تیاری میں مصروف ہوں۔ “ اس اقتباس کے مطابق ، اسوہ (نمونہ) وہی بن سکتا ہے جو کامل ہو۔ مذکورہ اقتباس میں آگے جو تفصیل بتائی گئی ہے اس کے مطابق ، صرف پیغمبر اسلام کو یہ کامل حیثیت حاصل ہے۔ اس لیے صرف وہی اسوہ بن سکتے ہیں۔ یہ بات قرآن کے مطابق نہیں۔ اس لیے کہ قرآن کی سورہ نمبر ۶۰ میں ارشاد ہوا ہے : قد كانت لكم أسوة حسنة فى ابراهيم والذين معه (الممتحنہ (۴) - یعنی تمہارے لیے اچھا نمونہ ہے ابراہیم میں اور ان کے ساتھیوں میں۔ مصنف کے معیار کے مطابق ، حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھی تاریخی اعتبار سے کامل نہیں۔ ایسی حالت میں قرآن کا انہیں اسوہ (نمونہ) کے طور پر پیش کرنا مصنف کے نظریہ کی واضح تردید ہے۔

اصل یہ ہے کہ استدلال کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک شاعرانہ استدلال اور دوسرے علمی

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page