Al-Risala · February 2004 · page 7

سیاسی اختلاف

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۷

تشکیل کی گئی جس کا نام نیشنل انٹیگریشن کونسل (قومی یکجہتی کونسل) تھا۔ اس کا مرکزی دفتر نئی دہلی میں قائم کیا گیا۔ اس تنظیم کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ وہ قومی یکجہتی سے متعلق تمام مسائل کا جائزہ لے اور ضروری سفارشیں پیش کرے ۔

اس کونسل کا اجلاس دوسری بار ۲۔ ۳ جون ۱۹۶۲ کو نئی دہلی میں ہوا۔ شرکاء نے تقریریں کیں اور فرقہ وارانہ مسئلہ کے حل کے لیے کئی تجویزیں پیش کیں ۔ مگر ان تجویزوں پر کوئی عمل نہ ہو سکا۔ یہاں تک کہ دو بار کے بعد اس کونسل کا کوئی تیسرا اجلاس جواہر لال نہرو کی زندگی میں نہیں ہوا۔ اس کے بعد جب اندرا گاندھی ملک کی وزیر اعظم بنیں تو انہوں نے محسوس کیا کہ نیشنل انٹیگریشن کونسل کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ انہوں نے ۲۰ - ۲۱ جون ۱۹۶۸ کوسری نگر میں تنظیم کا اجلاس بلایا۔ یہاں تفصیلی بحثیں ہوئیں ۔ آخر کار ایک مکمل لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا : فرقہ وارانہ سرگرمی کے معنی یہ قرار دیے جائیں کہ ہر وہ فعل جو مختلف مذہبی فرقوں ، یا نسلی گروپوں یا ذاتوں یا برادریوں کے درمیان مذہب ، نسل، ذات پات یا برادری کی بنیاد پر یا کسی بھی بنیاد پر دشمنی یا نفرت پھیلائے یا پھیلانے کی کوشش کرے۔ یہ جرم قابل دست اندازی پولیس ہو اور اس کے تحت سزا پانے والے کو عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت نااہل قرار دے دیا جائے ۔ افواہ پھیلانا یا گھبرادینے والی خبریں اور افکار کی اشاعت کو دفعہ ۱۵۳ (اے) کے تحت جرم قرار دے دیا جائے۔ کونسل کے جلسوں میں اس قسم کی بہت سی تجویزیں اتفاق رائے کے ساتھ پاس کی گئیں۔ اُس کے بعد اس کی تائید میں بہت سے قانون اور ضابطے بنائے گئے۔ مگر عملاً ان کا کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔ اس اعتبار سے ملک کی حقیقی صورت حال اب بھی تقریباً وہی ہے جیسی کہ وہ ۱۹۴۷ میں تھی۔ اس ناکامی کا سبب کیا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اس مسئلہ کو سادہ طور پر لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ سمجھ لیا گیا ۔ مگر اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ مسئلہ لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ نہیں ۔ وہ ذہنی تعمیریا شعوری بیداری کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے اصل ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کو ایجوکیٹ کیا جائے ۔ اُن کے اندر صحیح سوچ پیدا کی جائے ۔ اُن کے اندر یہ صلاحیت پیدا کی جائے کہ وہ ایک چیز اور

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page