phoney divorce
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۳۵
استدلال ۔ شاعرانہ استدلال یہ ہے کہ آدمی اپنے ذاتی خیال کے مطابق، استدلال قائم کرے، خواہ اس کا یہ خیال خارجی حقائق سے مطابقت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔ اس کے مقابلہ میں علمی استدلال یہ ہے کہ جو اسٹیٹمنٹ دیا جائے، تمام متعلقہ حقائق سے اس کی تصدیق (corroboration) مل رہی ہو۔ اس تقسیم کے مطابق، مذکورہ اقتباس شاعرانہ استدلال کی مثال ہے، نہ کہ علمی استدلال کی مثال۔ ایک اخبار میں ایک مضمون امریکی صحافی سموئیل ہنٹنگٹن کی مشہور کتاب تہذیوں کا تصادم کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہنٹنگٹن کے خیالات کا خلاصہ یہ ہے کہ سوویت روس کے ٹوٹنے کے بعد اب آئندہ اگر کسی تصادم کا اندیشہ ہے تو وہ ملکوں کے درمیان نہیں بلکہ یہ ٹکراؤ تہذیوں کے درمیان ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ کنفیوشس کے اقدار پر مبنی تہذیب ، یا ہندو تہذیب مغربی یعنی یورپی امریکن تہذیب کے لیے کوئی خطرہ نہیں۔ مغربی تہذیب کو واقعتا صرف اسلام سے خطرہ لاحق ہے۔ صاحب مضمون نے ہنٹنگٹن کے اس نقطہ نظر سے اتفاق کیا تھا۔ مگر میرے نزدیک یہ درست نہیں۔ اس قسم کی رائے رکھنے والوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب اور اسلامی تہذیب کو دو مقابل اور متحارب یونٹ سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ یہ تصور سراسر بے بنیاد ہے۔ اسلام کا تعارف قرآن میں دوسری قوموں کے مد مقابل کی حیثیت سے نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس حیثیت سے کیا گیا ہے کہ اسلام تمام انسانیت کا خود اپنا مطلوب دین ہے۔ اسلام دین فطرت ہے، اس لیے تمام انسانوں کا دین ہے۔ وہ تمام انسانوں کے دل کی آواز ہے۔ اس لیے اسلام کا مقصد دوسروں سے تصادم کرنا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ اسلام اور انسانیت کے درمیان مشترک بنیاد (common ground) کو دریافت کرکے انہیں اپنے قریب لائے۔ اسلام تمام انسانوں کو ایک خدا کی عبادت کا پیغام دیتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ : تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم الا نعبد الا الله۔
بدقسمتی سے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنے مادی اور قومی مسائل کو اسلام کا نام دے کر دوسری قوموں سے لڑائی چھیڑ رکھی ہے۔ اس سے لوگوں کو یہ گمان ہوتا ہے کہ اسلام دوسری قوموں کے ساتھ تصادم کی حالت میں ہے۔ حالاں کہ یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ اگر کوئی تصادم ہے تو وہ مسلم قوموں کا اپنا پیدا کردہ تصادم ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام ایک عالمی انقلاب کا داعی ہے، وہ کسی مخصوص قوم کو دوسری قوموں پر فوقیت دینے کے لیے نہیں آیا ہے۔ اسلام کی پوری دعوت یہ ہے کہ ہر انسان اپنی ذاتی اصلاح کرے اور اپنی دنیا اور آخرت کو سنوارے۔ کافر اور مسلمان کی تقسیم زمینی تقسیم ہے، خدا کے یہاں صرف دو انسان ہیں: ایک وہ جو حق کو قبول کرے اور دوسرا وہ جو حق کا انکار کردے۔ پہلے زمرہ کے لوگ خدا کے انعام کے مستحق ہیں اور دوسرے زمرہ کے لوگ خدا کے عذاب کے مستحق ہیں۔ اس حقیقت کو قرآن نے اس طرح بیان کیا ہے: لیس بامانیکم ولا آماني اهل الكتاب، من يعمل سوءا يجز به ولا يجد له من دون اللہ وليا ولا نصيرا ومن يعمل من الصالحات من ذكر او انثى وهو مؤمن فاولئك يدخلون الجنة ولا يظلمون نقيرا۔
ان آیات میں واضح کر دیا گیا ہے کہ خدا کے یہاں فیصلہ ناموں سے نہیں ہوگا، بلکہ اعمال سے ہوگا۔ جو شخص بھی صحیح عمل کرے گا وہ کامیاب ہوگا، خواہ وہ کسی بھی قوم یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ اس کے برعکس جو شخص بھی غلط عمل کرے گا وہ ناکام ہوگا، خواہ وہ بظاہر کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ فروعی اور عصبیاتی اختلافات کو چھوڑ کر اسلام کی اصل روح کو سمجھیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues