Al-Risala · November 2004 · page 36

phoney divorce

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۳۶

قوموں اور دوسری قوموں کے درمیان ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے ، اسلام کا کوئی تصادم کسی فرد یا قوم سے نہیں۔

ہندی روز نامہ دینگ جاگرن (۳ جون ۲۰۰۳) میں ایک خبر چھپی ہوئی تھی۔ اس خبر کا عنوان یہ تھا: راشٹرپتی کی یاترا سے سرخیوں میں آیا سرگی پال ۔ اس خبر کا ابتدائی حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:

بستر ضلع کا لگ بھگ چودہ سو کی جن سنکھیا والا آدیواسی بہول گاؤں ران سرگی پال اچانک سرخیوں میں ہے۔ اور پر شاسنک ادھیکاری گاؤں کی اور دوڑے چلے جا رہے ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں۔ بجلی کی دیو ستھا کی جارہی ہے۔ گرمیوں کی چھٹی کے باوجود جھٹک گاؤں میں بچوں کو پڑھانے آ رہے ہیں۔ ران سرگی پال کے ادھیکانش لوگوں کو بدلی ہوئی دیو ستھا سے سکھد آশ্চری ہو رہا ہے۔ در اصل ۴ جون کو اس گاؤں میں راشٹر پتی اے پی جے عبدالکلام کا دورہ پرستاوت ہے۔ لیکن گاؤں کے ادھیکانش آدی واسی ابھی بھی بدلاؤ کے اس واوستوک کارڑ سے ان بھگ ہیں۔ ضلع مکھیا لے جگدل پور سے لگ بھگ ۲۵ کلومیٹر دور گرام ران سرگی پال کے سات محلے ہیں۔ پیڈے پارا ، ڈینگری گڑا پارا، لانڈ اگڑا پارا، بڑے پارا، ساڈ گڑا، نوگڑا، وابیدا اگڑا ۔ ان ساتوں محلوں کو دیو استھت کیا جا رہا ہے۔ بستر کی صاف ستھری یعنی خوش حال بستر کی تصویر ان محلوں کے ذریعہ پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ہندوستانی جمہوریت کی ایک تصویر ہے۔ یہاں کا حال یہ ہے کہ جب کوئی بڑا حکومتی عہدہ دار کسی مقام کا سفر کرتا ہے تو وقتی طور پر وہاں صفائی اور چو کسی کا مظاہرہ کیا جانے لگتا ہے۔ حالاں کہ اصل جمہوریت یہ ہے کہ صفائی اور چو کسی جیسی چیزوں کا اہتمام ملک کے عوام کے لیے کیا جائے ۔ کیوں کہ جمہوری اصول کے مطابق ، ملک کے اصل حاکم اس کے عوام ہیں، نہ کہ سیاسی عہدہ دار۔ بلسوری گاؤں میں تقریبا پانچ ہزار لوگ رہتے ہیں۔ یہاں ہندو اور مسلمان دونوں فرقہ کے لوگ ہیں ، مگر یہاں نہ کوئی مندر ہے اور نہ کوئی مسجد ۔ مسٹر کرپال سنگھ کے الفاظ میں ” اس لئے یہاں مندر اور مسجد کا کوئی جھگڑا نہیں“۔ گاؤں کے ہر گھر میں بجلی ہے اور تقریبا تین سو گھروں میں ٹیلی فون لگے

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page