phoney divorce
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۳۷
ہوئے ہیں۔ یہاں زیادہ تر کسان رہتے ہیں اور ہر ایک کے پاس اس کی اپنی زمین ہے جس میں وہ کھیتی کرتا ہے۔ گاؤں میں سو سے زیادہ ٹریکٹر ہیں۔ یہاں مجھے بتایا گیا کہ یہاں کا ہر بچہ پڑھ رہا ہے۔ گاؤں میں اسکول بھی ہے اور کالج بھی۔ یہاں کوئی بے پڑھا لکھا آدمی دکھائی نہیں دے گا۔ یہاں پانی کی کوئی کمی نہیں ہے۔ گنگا نہر گاؤں کے پاس سے گزرتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے ٹیوب ول لگے ہوئے ہیں۔ یہاں ہر فرقہ کے لوگ رہتے ہیں مگر مجھے بتایا گیا کہ یہاں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہے۔ بلسوری گاؤں میں میرے آنے کا مقصد یہ تھا کہ میں مسٹر کر پال سنگھ کی لڑکی نیٹورانی کی شادی کی تقریب میں شرکت کروں۔ اس سلسلہ میں ان کے گھر کے لوگوں اور گاؤں کے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ گاؤں کے سرپنچ مسٹر روندر کمار سے بھی ملاقات ہوئی۔ یہاں کے سب لوگ مجھے بہت سادہ اور صحیح مزاج کے دکھائی دئے۔ مجھے ایسا لگا کہ یہاں کے لوگ اپنے اپنے نیچر پر ہیں ۔ ان میں وہ بگاڑ نہیں آیا ہے جو شہروں میں دکھائی دیتا ہے۔
نیٹورانی (۲۲ سال) کی شادی آج رات کو ہو رہی ہے۔ ان کا ہونے والا شوہر ایک پولس انسپکٹر ہے جو گوالیار میں رہتا ہے۔ میں نے نیٹورانی سے کہا کہ میں آپ کو کامیاب جیون کا ایک بہت سادہ فارمولا (formula) بتاتا ہوں۔ یہ فارمولا مجھے ایک صاحب سے ملا۔ ان کو میں نے دیکھا کہ وہ بہت خوش رہتے ہیں۔ حالاں کہ ان کی زندگی میں وہ سارے پرابلم آتے ہیں جو دوسروں کی زندگی میں آتے ہیں۔ انھوں نے ہر بات کا ایک سادہ حل یہ بنایا ہے’’ چلو یہ بھی ٹھیک ہے‘‘۔ جب بھی کوئی بات پیش آتی ہے یا کوئی ایسی بات ہوتی ہے جو ان کو اچھی نہ لگے تو وہ اس سے الجھتے نہیں بلکہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ چلو یہ بھی ٹھیک ہے۔ میں نے کہا کہ ہر ٹنشن کو دماغ سے نکالنے کا یہ سب سے اچھا فارمولا ہے۔ آپ ٹینشن کو ٹینشن کے روپ میں نہ لیجئے بلکہ یہ کہہ دیجئے کہ چلو یہ بھی ٹھیک ہے، اور پھر اس طرح رہئے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔
بلسوری میں ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی ۔ ان کا نام امت ملک ہے۔ وہ کمپیوٹر کا کورس کر رہے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ وہ سفارش کے ذریعہ کوئی سروس حاصل کریں۔ میں نے ان کو نصیحت
‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues