Al-Risala · November 2004 · page 39

رب افتح لی أبواب رحمتك

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۴، صفحہ ۳۹

نے اصرار کیا کہ آپ دوبارہ ہمارے یہاں آئیے اور زیادہ دیر تک یہاں قیام کیجئے۔ ہم لوگ آپ کا آشیرواد لینا چاہتے ہیں اور آپ سے بہت کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔

تین جون کی شام کو بسوری سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ ہماری گاڑی بظاہر ایک جغرافی سفر طے کر رہی تھی مگر اللہ کی مدد نے اس کو ایک روحانی اور تربیتی سفر بنادیا۔ اس سفری کلاس میں اس کا ہر ممبر یکساں طور پر شریک تھا۔ یہ ایک انوکھی کلاس تھی جس کا ہر فرد بیک وقت معلم بھی تھا اور متعلم بھی۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آپ میں سے ہر ایک کوئی نہ کوئی سوال پوچھے ۔ پھر میں نے کہا کہ سوال کیا ہے۔ سوال دراصل مطالعہ اور غور و فکر کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔ سوال کوئی سادہ چیز نہیں۔ سوال آدمی کی پوری شخصیت کا ایک تعارف ہے۔ سوال اپنی حقیقت کے اعتبار سے جواب کی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ جب آپ کا ذہن ایک مسئلہ سے دوچار ہو تو وہ اپنے آپ ایک سوال پیدا کرتا ہے۔ پھر غور و فکر کے ذریعہ وہ اس کے جواب تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب بھی کوئی آدمی سچاتلاشی (seeker) ہوگا تو ضرور اس کے ذہن میں سوالات آئیں گے۔ سوالات سے خالی ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی کا ذہن غور و فکر سے خالی ہے۔ آدمی کو کبھی سوال کرنے سے ہچکچانا نہیں چاہئے۔ اسی کے ساتھ آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہونی چاہئے کہ صحیح جواب آنے کے بعد وہ اس کو مان لے اور اس کو اپنے ذہن کا جزء بنائے۔

ڈاکٹر محمد اقبال پردھان نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ بڑے شہروں سے پولیوشن (pollution) کیسے ختم کیا جائے۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہم کو دو میں سے ایک طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ یا تو ہم یہ کریں کہ ما قبل کار زمانہ (pre-car period) کی طرف لوٹ جائیں اور ہم سب لوگ پیدل چلنا شروع کر دیں۔ دوسرا طریقہ وہی ہے جو مغربی ملکوں میں اپنایا گیا ہے، یعنی کار پر کنٹرول کرنا۔ صرف اسی کار کو سڑک پر چلنے کی اجازت دینا جو صفر گیس (harmful gas) نہ نکالتی ہو۔

میں نے کہا کہ پولیوشن کا معاملہ یہ ہے کہ پٹرول (petrol) کا ایندھن جب کار میں جلتا ہے تو

‹ Previous page Next page › Contents of November 2004 All issues

Printed page