سیاسی اختلاف
الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۸
دوسری چیز کے فرق کو سمجھیں ۔ وہ نتیجہ خیز عمل اور بے نتیجہ عمل کے درمیان تمیز کرنا جانیں ۔ وہ یہ جانیں کہ انہیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے ۔ وہ اس حقیقت کو سمجھیں کہ عملی اقدام سے پہلے سوچنے کے مراحل کی تکمیل ضروری ہوتی ہے ۔ عمل کو سوچ کے تابع ہونا چاہئے ، نہ کہ سوچ کو عمل کے تابع بنا دیا جائے ۔ اس قسم کا باشعور سماج گویا کہ وہ زمین ہے جہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فصل اگائی جاسکتی ہے ۔ قانون کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سماج کے استثنائی بگاڑ کو جراحی جیسے عمل کے ذریعہ درست کیا جائے ۔ کوئی بھی قانون سماج کی عمومی حالت کی اصلاح کے لیے نہیں ہوتا ۔ جراحی کا عمل جسم کی ایک جزئی بیماری کو شفا دینے کے لیے ہوتا ہے ۔ اگر پورا جسم عمومی طور پر مرض کا شکار ہو جائے تو ایسی حالت میں جراحی کے عمل کا کوئی فائدہ نہیں ۔
یہاں میں اس مسئلہ کے چند بنیادی پہلوؤں کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں ۔ یہ پہلو براہ راست طور پر عوام کی ذہنی تشکیل کے سوال سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بے حد ضروری ہے کہ ان سوالات کا واضح جواب ہمارے ذہن میں ہو تا کہ کسی کنفیوژن کے بغیر ذہنی تشکیل یا شعوری تعمیر کا کام عمل میں لایا جا سکے ۔ مذہبی اختلاف اس سلسلہ میں پہلا نظری مسئلہ وہ ہے جو مذہبی اختلاف سے تعلق رکھتا ہے ۔ مذاہب کا تقابلی مطالعہ بظاہر یہ بتاتا ہے کہ مذاہب کے درمیان واضح اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ مثلا کسی مذہبی گروہ کا عقیدہ وحدت وجود (monism) کے تصور پر قائم ہے اور کسی گروہ کا عقیدہ توحید (monotheism) کے تصور پر قائم ہے ۔ کسی مذہب میں خود دریافت کردہ سچائی (self-discovered truth) کا تصور ہے اور کسی مذہب میں الہامی سچائی (revealed truth) کا ۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مذہبی فرق واختلاف ہی تمام فرقہ وارانہ نزاعات کی اصل جڑ ہے ۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی صرف اُس وقت پیدا کی جاسکتی ہے جب کہ کسی نہ کسی طرح ان مذہبی اختلافات کا خاتمہ کر دیا جائے ۔ کچھ انتہا پسند لوگ، اُن کو بلڈ وز کر دو (bulldoze them all) کی زبان بولتے ہیں ۔ مگر وہ اتنی زیادہ ناقابلِ عمل ہے کہ وہ سرے سے قابل تذکرہ ہی نہیں ۔ کچھ دوسرے لوگ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues