Essential Unity of All Religions
الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۹
کی جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ تمام مذاہب کی تعلیم ایک ہے۔ یہ کتاب ۹۲۹ صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا نام یہ ہے:
Essential Unity of All Religions
منتخب اقتباسات کو لے کر ہر مذہب کو ایک ثابت کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص مختلف ملکوں کے دستور کو لے اور پھر ہر دستور سے کچھ منتخب دفعات کو جمع کرکے ایک کتاب چھاپے اور اُس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرے کہ ہر ملک کا دستور ایک ہے اور ایک ہی قسم کی دفعات کا مجموعہ ہے۔ اس قسم کا آفاقی دستور کسی مصنف کو تو خوش کر سکتا ہے مگر وہ کسی ایک ملک کے لیے بھی قابلِ قبول نہ ہوگا۔ ہر ملک اس کو شکریہ کے ساتھ رد کر دے گا۔ یہی معاملہ اتحاد مذہب کے بارہ میں مذکورہ قسم کی کتابوں کا ہے۔ اس قسم کی کتاب اُس کے مرتب کو خوش کر سکتی ہے مگر وہ اہلِ مذاہب کے لیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔ میں نے بھی اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ میں نے اپنے مطالعہ میں پایا ہے کہ تمام مذاہب کو ایک بتانا واقعہ کے مطابق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذاہب میں اتنے زیادہ اختلافات ہیں کہ اُن کو ایک ثابت کرنا عملی طور پر ممکن ہی نہیں۔ مثلاً کسی مذہب کا کہنا ہے کہ خدا ایک ہے۔ کوئی مذہب کہتا ہے کہ خدا دو ہیں۔ کوئی مذہب بتاتا ہے کہ خدا تین ہیں اور کسی مذہب کا دعویٰ ہے کہ خداؤں کی تعداد ۳۳ یا ۳۳ کروڑ ہے۔ کسی کے نزدیک خداؤں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اُن کی گنتی ہی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں ہر مذہب کی تعلیم کو ایک بتانا ایک ایسا بیان ہے جو کسی خوش فہم کے دماغ میں تو جگہ پاسکتا ہے مگر عملی اور منطقی طور پر اس کو سمجھنا ممکن ہی نہیں۔
حتّیٰ کہ بالفرض کسی تدبیر سے تمام مذاہب کے ٹیکسٹ کو ایک ثابت کر دیا جائے تب بھی اختلاف ختم نہ ہوگا۔ کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف مذاہب میں ہرایک کا ایک تسلیم شدہ ٹیکسٹ ہے مگر
‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues