Al-Risala · December 2004 · page 60

ٹیلی ویژن کا استعمال

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۰

ہوا کہ بہت کم لوگ ٹی وی کے اس اسلامی پروگرام کو دیکھتے ہیں۔ اکثر مقام پر یہ حال ہے کہ جب ٹی وی پر اسلامی پروگرام آتا ہے تو گھر والے یہ کہہ کر اس کو بند کر دیتے ہیں کہ ــــ اس کو بند کرو، یہ تو سرکاری پروگرام ہے۔

برصغیر ہند کے تقریباً تمام مسلمان اقبال کے ساتھ گہری عقیدت رکھتے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ اقبال کا کلام ان لوگوں کے لیے صرف گنگنانے کا نغمہ ثابت ہوا ہے، نہ کہ زندگی کے لیے عملی رہنمائی لینے کا ذریعہ۔ مثلاً اقبال نے کہا تھا:

آئینِ نو سے ڈرنا طرزِ کہن پر اڑنا منزل بہت کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں مگر مسلمانوں، خاص طور پر مذہبی طبقہ کا یہ حال ہے کہ وہ ہر نئی چیز پر بھڑکتے ہیں۔ وہ ہر نئی چیز پر منفی رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ اسی کی ایک مثال ٹی وی ہے۔ مذہبی طبقہ کے درمیان ٹی وی کو اتنا ہی برا سمجھا جاتا ہے جتنا کہ شیطان کو۔

اس معاملہ میں صحیح مسلک یہ ہے کہ ٹی وی اور ٹی وی کے غلط استعمال کے درمیان فرق کیا جائے۔ ٹی وی تو ایک خدائی قدرت کا ظہور ہے۔ وہ خدا کے بنائے ہوئے فطری قانون کا استعمال ہے۔ ٹی وی کا طریقہ امکانی طور پر خود خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں چھپا ہوا تھا۔ انسان کا حصہ اُس میں صرف اتنا ہے کہ اِس نے اُس کو دریافت کر کے اُسے استعمال کیا۔ ٹی وی کی ٹیکنالوجی اپنی حقیقت کے اعتبار سے خدا کی دین ہے نہ کہ کسی دشمنِ اسلام کی۔

یہ بات بجائے خود صحیح ہے کہ ٹی وی پر بہت سے غیر اخلاقی پروگرام آتے ہیں۔ مگر یہ ٹی وی کا غلط استعمال ہے۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ غلط استعمال ہر چیز کا ہو سکتا ہے، حتیٰ کہ ثابت شدہ طور پر مقدس چیزوں کا بھی۔ غلط استعمال کی بنا پر کسی چیز کو چھوڑ نہیں دیا جائے گا بلکہ اُس کے استعمال کو درست کیا جائے گا۔

اس معاملہ میں مذہبی طبقہ کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہے کہ وہ منفی رد عمل ظاہر کر کے الگ ہو جائے ۔ اس معاملہ میں مذہبی طبقہ کی ایک مثبت ذمہ داری ہے۔ اور یہ کہ ان لوگوں کو چاہیے کہ وہ ٹی وی

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page