Al-Risala · December 2004 · page 61

ٹیلی ویژن کا استعمال

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۱

کے طریقہ کو فنی طور پر سمجھیں۔ وہ اس کے استعمال کی تفصیلات کو جانیں ۔ وہ یہ دریافت کریں کہ ٹی وی کو کس طرح اصلاحی کام کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پھر مذہبی طبقہ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ضروری تیاری کے بعد ٹی وی کے لیے اعلیٰ درجہ کے اسلامی پروگرام تیار کرے، ایسا پروگرام جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے۔ جس کو دیکھنے کے لیے لوگ راغب ہوں۔ جو آج کے انسان کے ذہن کو ایڈرس کرے۔

اسلام کا طریقہ منفی ردعمل کا طریقہ نہیں ہے بلکہ منفی حالات میں مثبت پہلو تلاش کرنے کا طریقہ ہے۔ اس کی ایک مثال قدیم کعبہ کی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر عورت اور مرد کو آزادی دی گئی ہے۔ اس لیے یہ ناممکن ہے کہ موجودہ دنیا میں سب کچھ ٹھیک رہے، کوئی ناخوشگوار بات پیش نہ آئے۔ اس دنیا میں ہمیشہ ناموافق حالات موجود رہیں گے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ناموافق حالات کے درمیان موافق پہلو کو دریافت کریں اور اس کو اپنے حق میں استعمال کریں۔

اس اصول کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ان مع العسر یسرا ۔ یعنی جہاں مسائل ہیں، وہیں مواقع بھی موجود ہیں۔ تم مسائل کو نظر انداز کرو اور مواقع کو استعمال کرو۔ یہ ایک آفاقی حکمت ہے۔ اس حکمت کا تعلق ٹی وی سے بھی ہے اور دوسری تمام چیزوں سے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page