Al-Risala · December 2004 · page 62

اصلاح کے نام پر فساد

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۲

اصلاح کے نام پر فساد

ایک گاؤں میں ایک قدیم مکتب تھا۔ یہ مکتب معمولی حالت میں تھا۔ اس کے بعد ایک نو جوان عالم کو اس کا ناظم بنایا گیا۔ انہوں نے رات دن محنت کی۔ لوگوں سے تعاون حاصل کیا۔ لوگوں کی رایوں اور لوگوں کے تجربوں سے فائدہ اٹھایا۔ یہاں تک کہ چند سال کی کوششوں سے یہ مکتب ایک بڑا مدرسہ بن گیا۔ اس کی کئی بلڈنگیں کھڑی ہوگئیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے یہ اضافہ کیا کہ الگ سے لڑکیوں کا ایک مدرسہ نئی عمارت میں قائم کیا۔

مذکورہ نو جوان عالم کے حوصلے بلند تھے۔ اب انہوں نے ایک نیا منصوبہ بنایا کہ مدرسہ کے ساتھ الگ بلڈنگ میں ایک اسکول بھی قائم کریں۔ گاؤں کے لوگوں پر فرض تھا کہ وہ تعلیم کی اس ترقی پر خوش ہوں۔ وہ نو جوان عالم کو دعائیں دیں۔ حسب مقدور اس کے ساتھ تعاون کریں۔ اور اگر اس قسم کا کوئی مثبت عمل پیش نہ کر سکیں تو حدیث کے مطابق، کم از کم یہ کریں کہ اگر وہ ادارہ کو نفع نہ پہنچا سکیں تو اُس کو نقصان بھی نہ پہنچائیں (ان لم تنفعه فلا تضره)۔

مگر بدقسمتی سے وہی ہوا جو اکثر دوسرے مقامات پر موجودہ زمانہ میں پیش آ رہا ہے۔ چنانچہ کچھ لوگ اصلاح کے نام پر فساد کے در پے ہو گئے ۔ حتیٰ کہ اُن کی منفی سرگرمیوں کے نتیجہ میں مدرسہ کو عملاً بند کر دینا پڑا۔

ان تخریب پسند مصلحین کا کہنا یہ تھا کہ مذکورہ نو جوان عالم اپنی ذاتی رائے سے مدرسہ کو چلا رہے ہیں۔ حالاں کہ قرآن کا حکم ہے کہ مسلمانوں کا اجتماعی کام شورائی انداز میں چلایا جائے ۔ مجھے اس میں شک نہیں کہ یہ حضرات خلیفہ چہارم حضرت علی کے اس قول کا مصداق ہیں کہ: كلمة حق اريد بها الباطل۔ یعنی انہوں نے بظاہر ایک قرآنی آیت کا حوالہ دیا مگر اس سے ان کا مقصد فساد کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ جلن اور حسد کا معاملہ ہے، نہ کہ قرآن کے اتباع کا معاملہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page