Al-Risala · December 2004 · page 63

اصلاح کے نام پر فساد

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۳

یہ حضرات قرآن کی آیت: امرهم شورى بينهم (الشوریٰ ۳۸) کا حوالہ دیتے ہیں۔ یعنی اُن کا معاملہ آپس میں مشورہ ہے۔ اس آیت میں مشورہ کی تعلیم بطور لازمی حکم نہیں ہے بلکہ اس میں ایک اسپرٹ کا ذکر ہے۔ یعنی یہ روحِ شوریٰ ہے، نہ کہ حکمِ شوریٰ۔ ایمان آدمی کے اندر سنجیدگی اور احتیاط پیدا کرتا ہے۔ اس بنا پر وہ ایسا کرتا ہے کہ معاملات میں وہ ہمیشہ دوسروں سے مشورہ لیتا ہے۔ وہ دوسروں کی رائیں معلوم کرتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ تنقید کو بھی خندہ پیشانی کے ساتھ سنتا ہے۔ ایسا وہ اس لیے کرتا ہے تاکہ وہ پیش آمدہ معاملہ میں درست فیصلہ لے سکے۔ اس شورائی اسپرٹ کا تعلق انفرادی معاملہ سے بھی ہے اور اجتماعی معاملہ سے بھی۔

دو باتیں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ ایک ہے، معاملات میں مشورہ لینا، اور دوسرا ہے، لوگوں کے مشورہ کے مطابق عمل کرنا۔ مذکورہ آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ پہلی بات ہے نہ کہ دوسری بات۔ اس آیت میں اس کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ معاملات میں دوسروں کے ساتھ مشورہ کریں، وہ کھلا ڈسکشن کریں، وہ فکری تبادلۂ خیال (intellectual exchange) کریں۔ وہ لوگوں کی رائیں سنیں اور اپنی رائے دوسروں کو بتائیں۔ مذکورہ قرآنی آیت کا مدّعا اصل میں یہی ہے، نہ کہ شوریٰ کے نام پر ایک باقاعدہ تنظیم بنانا۔

مذکورہ مدرسہ کے معاملہ میں اگر اس قرآنی آیت کو منطبق کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مدرسہ کے ناظم کو چاہیے کہ مدرسہ کا کام چلاتے ہوئے وہ لوگوں سے مشورہ لیتے رہیں۔ لوگوں کی رائیں اور تجربہ سے استفادہ کرتے رہیں۔ کوئی فیصلہ لینے سے پہلے لوگوں سے ڈسکشن کریں تاکہ وہ زیادہ صحیح فیصلہ لے سکیں۔ اس آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ گاؤں کے لوگ مدرسہ کے ناظم کے اوپر انسپکٹر بن جائیں۔ وہ قرآن کی آیت کے حوالہ سے ناظم کا محاسبہ کریں۔ وہ اس کو مدرسہ سے اکھاڑنے کی تدبیریں کریں۔ اس قسم کی روش بلاشبہ تخریب ہے۔ وہ نہ مشورہ ہے اور نہ تعمیر۔

شوریٰ یا مشورہ کا یہ مفہوم قرآن کی دوسری آیت سے واضح ہورہا ہے۔ قرآن میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے یہ ارشاد ہوا ہے: وشاورهم فی الامر فاذا عزمت

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page