اصلاح کے نام پر فساد
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۴
فتوکل علی اللہ (آل عمران ۱۵۹) یعنی تم ان سے معاملہ میں مشورہ لو، پھر جب تم عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ رکھو۔
قرآن کی یہ آیت بظاہر پیغمبرِ اسلام کو خطاب کرتی ہے۔ مگر پیغمبرِ اسلام ایک اعتبار سے پیغمبر تھے اور دوسرے اعتبار سے وہ تمام اہل ایمان کے لیے اسوہ تھے۔ اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اصل چیز مشورہ کی اسپرٹ ہے نہ کہ مشورہ کا نظامی ڈھانچہ۔ اس کے مطابق، ہر مومن کو یہ کرنا چارہیے کہ وہ چھوٹے اور بڑے ہر معاملہ میں بار بار لوگوں سے پیش آمدہ معاملہ میں مشورہ لے۔ وہ لوگوں سے ڈسکشن کرے ۔ وہ معاملہ کے سارے پہلوؤں پر نہ صرف خود غور کرے بلکہ اس کو دوسروں کے ساتھ زیر بحث لائے ۔ اس طرح وہ زیادہ بہتر طور پر اس پوزیشن میں ہوگا کہ وہ یقین کے ساتھ فیصلہ لے سکے۔ اور جب وہ اس طرح کسی فیصلہ پر پہنچ جائے تو خدا کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا کام شروع کردے۔ قرآن کی اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ شوریٰ یا مشورہ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ معروف جمہوری ڈھانچہ کی صورت میں اس کا ایک قانونی نظام بنایا جائے اور اس نظام کے ممبران کے اتفاق رائے یا ان کی کثرت رائے کو حتمی حیثیت دے کر اس کے مطابق کام کیا جائے۔ اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس قسم کا نظامی ڈھانچہ نہ پیغمبرِ اسلام کے زمانہ میں بنایا گیا اور نہ خلفاء راشدین کے زمانہ میں اور نہ بعد کے زمانہ میں موجود تھا۔ جو چیز موجود تھی وہ یہ کہ صاحبِ امر معاملات میں ہمیشہ لوگوں کی رائے دريافت کرتا جس کا مقصد خود اپنے آپ کو تیار کرنا ہوتا تھا۔ اور جب صاحب امر یہ سمجھ لیتا کہ اس کی ذہنی تیاری کا کام ہو چکا ہے تو وہ اللہ کے بھروسہ پر اقدام کرتا ۔ گویا کہ اسلام میں شورائی کلچر ہے، اسلام میں شورائی نظام نہیں۔ واضح ہو کہ اسپرٹ کے ساتھ ہی شوریٰ کا فائدہ ہے۔ اگر اسپرٹ نہیں تو شوریٰ بھی نہیں۔ کوئی تنظیمی ڈھانچہ اسپرٹ کا بدل نہیں بن سکتا۔
غیر رسمی شورائیت تو اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ موجود ہی ہے۔ مگر رسمی ڈھانچہ کے اعتبار سے شورائی نظام اسلام کی تاریخ میں پایا نہیں جاتا ۔ گویا شورائی مزاج تو تھا مگر شورائی تنظیم جیسی کوئی چیز کبھی قائم نہیں کی گئی۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues