اصلاح کے نام پر فساد
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۵
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں پنج وقتہ نماز کا باقاعدہ نظام بنایا اور اس کے مرکز کے طور پر مسجد کی تعمیر کی۔ اسی طرح آپ یہ بھی کر سکتے تھے کہ شوریٰ کا تنظیمی ڈھانچہ بنائیں اور دارالشوریٰ کے نام سے اس کے لیے ایک عمارت تعمیر کریں جو بعد کے لوگوں کے لیے اس معاملہ میں ایک نمونہ ہو۔ اس قسم کا عمل نہ پیغمبر اسلام کے زمانہ میں کیا گیا، نہ خلفاءِ راشدین کے زمانہ میں اور نہ بعد کے کسی زمانہ میں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں شوریٰ بطور روح تو ضرور ہے مگر اسلام میں شوریٰ بطور ڈھانچہ نہیں۔
اس موضوع پر ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ وہ شوریٰ کی نظامی تعبیر یا اس کی تنظیمی ڈھانچہ بندی کے قائل تھے۔ میں نے کہا کہ یہ مفہوم قرآن کے الفاظ سے نہیں نکلتا۔ اور اگر بالفرض اس کا یہ مفہوم ہو تو اسلام کی پوری تاریخ میں کبھی اس پر عمل نہیں ہوا۔
میں نے کہا کہ پیغمبر اسلام ایک مکمل اسوہ بنا کر بھیجے گئے۔ مگر آپ نے کبھی تنظیمی مفہوم میں شوریٰ کا کوئی نظام نہیں بنایا۔ خلفاء راشدین کے زمانہ میں ایسا کوئی باضابطہ نظام نہیں تھا۔ بعد کے زمانہ میں بھی کسی دور میں شوریٰ کے نام سے کسی تنظیمی ڈھانچہ کا ثبوت نہیں ملتا۔ حتی کہ پانچویں خلیفہ راشد عمر بن عبد العزیز کے زمانہ میں بھی نہیں۔ ہر دور میں مشورہ ضرور تھا، مگر کسی بھی دور میں اس مقصد کے لیے کسی رسمی تنظیم کا ثبوت نہیں ملتا۔
انہوں نے کہا کہ خلافت راشدہ کے زمانہ میں بڑے بڑے صحابہ موجود تھے۔ اس لیے اس زمانہ میں مستقل شورائی تنظیم بنانے کی ضرورت نہ تھی۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں اصل فیصلہ کن مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اکابر صحابہ موجود تھے یا نہیں ۔ اصل قابل لحاظ مسئلہ یہ ہے کہ اشو پیدا ہوئے یا نہیں پیدا ہوئے۔ دور اول کی تاریخ بتاتی ہے کہ رسول کی وفات کے فوراً بعد بڑے بڑے اشوز پیدا ہوئے ۔ ارتداد کا مسئلہ، خلیفہ کے تقرر میں اختلاف، خلیفہ سوم کے زمانہ میں مناصب کی تقرری میں اختلاف ، خلیفہ چہارم کے زمانہ میں خون عثمان کے معاملہ میں اختلاف، حسن اور حسین کے زمانہ میں خروج کے مسئلہ پر اختلاف، وغیرہ۔ مگر اس پوری مدت میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اس پر غور و فیصلہ کے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues