اصلاح کے نام پر فساد
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۶
لیے تنظیمی مفہوم میں کوئی باقاعدہ شوریٰ بنائی جائے۔
ایسی حالت میں یہ بڑی عجیب بات ہوگی کہ قرآن میں ایک ایسے اجتماعی اصول کا حکم دے دیا جائے جس پر کبھی عمل ہی نہ کیا جائے۔ جس کے لیے یہی مقدر ہو کہ وہ ہمیشہ کے لیے کتابوں میں معطل پڑا رہے۔
ایک روایت کے مطابق، حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو لوگوں سے اتنا زیادہ مشورہ کرتا ہو جتنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے (ما رأيت رجلا أكثر استشارة للرجال من رسول الله صلعم ) پیغمبر اسلام کے زمانہ میں تمام اکابر صحابہ موجود تھے۔ پھر اگر اکابر صحابہ کی موجودگی شوریٰ میں مانع ہو تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں اتنا زیادہ مشورہ کیوں کرتے تھے۔ یہ واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اکابر صحابہ کی موجودگی یا غیر موجودگی کا کوئی تعلق شوریٰ کے عمل سے نہیں ہے۔ شوریٰ یا مشورہ انسانی زندگی کا ایک جزو ہے۔ اُس کو کسی بھی حال میں زندگی سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔
تنظیم ایک محدود گروہ کا نام ہوتا ہے۔ شوریٰ کو تنظیمی ڈھانچہ کی صورت دینا شوریٰ کی افادیت کو محدود کرنا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ شوریٰ کے مقرر ممبران ہی ساری بات جانتے ہوں ۔ بہت سی باتیں ایسی ہوسکتی ہیں جن کے بارے میں ممبران شوریٰ کے باہر کے افراد زیادہ بہتر مشورہ دے سکتے ہیں۔ جیسا کہ بدر کے میدان کے انتخاب کے بارے میں ایک عام آدمی کا قیمتی مشورہ۔ اسی طرح غزوہ خندق کے موقع پر ایک ایرانی نو مسلم کا نہایت مفید مشورہ وغیرہ۔ ایسی حالت میں شورائی تنظیم کے مقابلہ میں شورائی کلچر کا اصول زیادہ با معنی اور زیادہ کارآمد ہے۔
ضرورت کے تقاضے کے تحت شوریٰ کا تنظیمی ڈھانچہ بنایا جاسکتا ہے۔ مگر اس قسم کے تنظیمی ڈھانچہ کو شرعی معنوں میں فرض کا درجہ نہیں دیا جاسکتا۔ شرعی فرض وہی ہوگا جو قرآن و سنت سے براہ راست طور پر ثابت ہو اور جس کی نظیر قرون مشهود لها بالخير میں پائی جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues