Al-Risala · December 2004 · page 67

دیباچہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۷

دیباچہ

زیر نظر کتاب اسلامی تہذیب بمقابلہ مغربی تہذیب : حریف یا حلیف اپنے موضوع پر ایک دلچسپ اور قابل مطالعہ کتاب ہے۔ یہ کتاب ۲۲ ممتاز مسلم شخصیتوں کے انٹرویوز پر مشتمل ہے۔ اس بنا پر اس کتاب میں تنوع کی صفت پیدا ہوگئی ہے۔ اس میں زیر بحث موضوع پر مختلف تعلیم یافتہ شخصیتوں کے اپنے اپنے افکار اور تجربات کا خلاصہ دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کتاب کو پاکستان کے ایک معروف صحافی مسٹر افضال ریحان نے مرتب کیا ہے۔ کتاب میں جو مختلف انٹرویوز شامل ہیں وہ سب انہی کے لیے ہوئے ہیں۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ انٹرویو لینا ایک مشکل آرٹ ہے۔ انٹرویو رجب سوال کرتا ہے تو اپنے ہر سوال میں وہ خود اپنے آپ کو متعارف کراتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ کتاب میں مسٹر افضال ریحان کے سوالات ان کی اپنی شخصیت کا تعارف ہیں۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو یہ سوالات خود ایک مستقل کتاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان سوالات کے ذریعہ انٹرویو رکی جو شخصیت ابھر کر سامنے آتی ہے وہ ایک ایسے انسان کی شخصیت ہے جو ذہین اور سنجیدہ ہونے کے ساتھ مثبت طرز فکر کا حامل ہے۔

کتاب میں جو انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں ان میں غور وفکر کا کافی مواد موجود ہے۔ بار بار ایسی باتیں سامنے آتی ہیں جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اس قسم کے چند جملے یہاں مثال کے طور پر نقل کیے جاتے ہیں۔

کسی بھی قوم کے رہن سہن (way of living) کا نام کلچر ہے۔ دنیا کی ہر قوم کا ایک کلچر ہوتا ہے جب کہ سولائزیشن سے مراد شہری زندگی ہے۔ کلچر کے ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلہ تک پہنچنے کا نام سولائزیشن ہے۔ افریقہ جیسے پسماندہ خطے میں بھی کلچر تو ہے لیکن وہ سولائزڈ (مہذب) نہیں ہے (160)۔ غیر مسلموں کے ساتھ ہمارا تعلق داعی اور مدعو جیسا ہونا چاہیے نہ کہ دشمن جیسا (2)۔ اپنی اصلاح کی بجائے ماضی پر فخر کرنا ہمارا شیوہ بن چکا ہے (37) ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ’’مسلمان اور غیر مسلموں

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page