Al-Risala · December 2004 · page 68

دیباچہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۸

کے تعلقات امن پر مبنی ہیں لڑائی پر نہیں ‘‘ (38) ۔ اسرائیل میں بوسنیا کے مسلمانوں کا وفد آیا تو انہیں وہاں پناہ دی گئی اور کہا گیا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں اور آپ کو دیکھ کر ہمیں اپنی دربدی کا زمانہ یاد آگیا ہے (40) ۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس وقت دنیا میں اسلامی تہذیب نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے بلکہ یہ سب مسلم تہذیبیں ہیں اور اس پر آفاقی رنگ کے بجائے علاقائی رنگ غالب رہا ہے (101) ۔ میں کہتا ہوں کہ ہمیں سب سے پہلے اسلام کے essential اور non-essential میں فرق کرنا پڑے گا (104) ۔ عجیب بات ہے کہ مسلمان امریکا میں رہنا پسند بھی کرتے ہیں اور اس کو گالی بھی دیتے ہیں (107) ۔ اسلامی تہذیب دنیا میں داعی اور مدعو کا پیغمبرانہ رشتہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان قائم کرنا چاہتی ہے (109) ۔

برٹرینڈ رسل کا قول ہے کہ جب میں نے اسلام کی تعلیمات پڑھیں تو میری خواہش ہوئی کہ میں مسلمان ہو جاؤں لیکن جب میں نے مسلمانوں کو دیکھا تو یہ سوچا کہ میں جیسے ہوں ویسے ہی بہتر ہوں (120) ۔ خودکش حملہ دہشت گردی کی ایک تکلیف دہ شکل ہے (162) ، وغیرہ۔ جہاں تک کتاب کے اصل موضوع کا تعلق ہے ، وہ بلاشبہ ایک اہم موضوع ہے۔ یہ موضوع اگرچہ پچھلی تقریباً پانچ سوسالہ تاریخ سے تعلق رکھتا ہے مگر مختلف پہلوؤں سے اس کی اہمیت بدستور زندہ ہے اور ضرورت ہے کہ اس کا مزید جائزہ لیا جائے۔

عام تصور کے مطابق ، اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب دونوں ایک دوسرے کے حریف ہیں۔ حتی کہ سموئیل ہنٹنگٹن کی مشہور کتاب کے مطابق ، دونوں تہذیبیں ایک دوسرے کے خلاف متصادم ہیں۔ یہ تصادم تشدد کی حد تک پہنچ چکا ہے۔ مگر راقم الحروف کے نزدیک یہ تجزیہ اصل واقعہ کے مطابق نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مغربی تہذیب اصولی طور پر اسلام کے حق میں ایک معاون واقعہ تھا۔ اُس نے اسلام کے لیے بہت سے نئے امکانات کھولے۔ اسلامی نقطہ نظر سے وہ ایک مطلوب انقلاب تھا۔ اس انقلاب کے لانے والوں میں بالفرض اگر کچھ منفی پہلو پائے جاتے ہوں تب بھی اس انقلاب کا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page