Al-Risala · December 2004 · page 69

دیباچہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۹

مؤید اسلام ہونا مشتبہ نہ ہوگا۔ احادیث سے ثابت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد بار غیر مسلموں کی رائے یا ان کے طریقہ کو کسی عملی معاملہ میں اختیار فرمایا۔

فنی تعریف سے قطع نظر، کوئی تہذیب ہمیشہ تخلیقی طاقت کے زور پر اُٹھتی ہے۔ کوئی گروہ اپنی تخلیقی صلاحیت کے ذریعہ نئی فکری اور عملی طاقتوں کو دریافت کرتا ہے۔ یہ دریافت اُس گروہ کو دوسرے لوگوں سے آگے کر دیتی ہے۔ اس طرح ایک تہذیب وجود میں آتی ہے اور اس تہذیب کے حامل دوسروں کے اوپر فوقیت حاصل کر لیتے ہیں۔

مغربی تہذیب کا ظہور اصلاً اسی قسم کے ایک مثبت واقعہ کی حیثیت سے ہوا۔ مگر بعد کو اس میں ایسے اضافی پہلو شامل ہو گئے جن کی وجہ سے مغربی تہذیب کی وہ متنازعہ صورت بن گئی جو آج نظر آتی ہے۔ یہ اضافی پہلو خاص طور پر دو ہیں۔ ایک پہلو کا تعلق خود مغربی تہذیب کے علم برداروں سے ہے۔ اور دوسرے پہلو کا تعلق اُن مسلم علماء اور دانشوروں سے ہے جنہوں نے اس کو غیر اسلامی قرار دے کر مطلق طور پر اس کی مخالفت شروع کر دی۔

مغربی تہذیب کا آغاز زیادہ واضح صورت میں سولہویں صدی میں ہوا۔ اُس وقت یہ تہذیب فطرت کے قوانین یا فطرت میں چھپی ہوئی طاقتوں کی دریافت کے ہم معنی تھی۔ مگر یہ ایک اتفاقی بات تھی کہ اپنے ابتدائی زمانہ میں مغربی تہذیب کے بانی سائنسدانوں نے عالمی فطرت کے جو حقائق دریافت کیے وہ زوال یافتہ مسیحیت کے مزعومہ عقائد سے ٹکراتے تھے۔ مسیحیت کے پیشواچوںکہ اس وقت اقتدار کی حالت میں تھے، انہوں نے ان سائنس دانوں کی سخت مخالفت کی اور انہیں سخت سزائیں دیں۔ (Conflict between Science and Religion) اِن سزاؤں کی تفصیل ڈریپر کی مشہور کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔

یہ ٹکراؤ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اہل سائنس اور اہل مذہب کے درمیان تھا۔ مگر غلط طور پر اس کو سائنس اور مذہب کا ٹکراؤ سمجھ لیا گیا۔ اُس وقت جذباتی ہیجان کی بنا پر اس فرق کو سمجھا نہ جا سکا اور مغربی تہذیب غلط طور پر اپنے آغاز ہی میں عملاً ایک مخالفِ مذہب تہذیب کی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page