دیباچہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۷۰
کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی تہذیب کے لوگ مذہب کو اپنا حریف سمجھنے لگے اور اہل مذہب نے مغربی تہذیب کو اپنا دشمن فرض کر لیا۔ یہ منفی ذہن ابتداے مسیحیت کے مقابلہ میں پیدا ہوا۔ اس کے بعد وہ توسیع پا کر دوسرے مذاہب تک پہنچ گیا۔
موجودہ زمانہ میں تقریباً تمام مسلم علماء اور دانشوروں کا رخ مغربی تہذیب کے معاملہ میں منفی رہا۔ اس کا سبب بھی حقیقی کے بجائے اضافی ہے۔ قصہ یہ ہے کہ انیسویں صدی میں جب یہ مغربی تہذیب اپنے عروج تک پہنچ کر مسلم دنیا میں داخل ہوئی تو یہ داخلہ صرف ایک تہذیبی داخلہ نہ تھا بلکہ وہ سیاست اور ملک گیری کے جلو میں ہوا جس کو نو آبادیاتی نظام (colonialism) کہا جاتا ہے۔ مغربی تہذیب کے اس سیاسی مارچ کی زد سب سے زیادہ جن لوگوں پر پڑی وہ مسلمان تھے۔ اس وقت ایشیا اور افریقہ کے بڑے رقبہ میں مسلمانوں کی حکومتیں قائم تھیں ۔ مغربی تہذیب کے سیاسی مارچ نے ان مسلم حکومتوں کا خاتمہ کر کے ان کے اوپر اپنا غلبہ قائم کر دیا۔ انیسویں صدی کے مسلم علماء اور دانشور مغربی تہذیب اور اس کے سیاسی پہلو میں فرق نہ کر سکے۔ مغربی سیاست کو ایک غیر مطلوب چیز سمجھنے کے ساتھ انہوں نے یہ کیا کہ خود مغربی تہذیب کو بھی ایک غیر مطلوب چیز سمجھ لیا۔ انگریز سے متنفر ہونے کے ساتھ وہ انگریزی سے بھی متنفر ہو گئے ۔ ابتدائی طور پر دو چیزوں کے درمیان یہی عدم تمیز تھی جس نے مغربی تہذیب کے خلاف مسلمانوں میں نفرت پیدا کر دی ۔ مگر بعد کو خود مغربی تہذیب میں کچھ مزید برائیاں پیدا ہوئیں ۔ یہ برائیاں اگرچہ اضافی تھیں مگر وہ اسلامی مزاج کے سراسر خلاف تھیں ۔ اس لیے مغربی تہذیب کے معاملہ میں مسلم علماء اور دانشوروں کے منفی ذہن میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا۔
اس معاملہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ مغربی تہذیب نے مسیحی مذہب کے خلاف رد عمل میں آزادی کے تصور کو اتنا زیادہ بڑھایا کہ اس کو خیر مطلق (summumbonum) کا درجہ دے دیا۔ انسانی آزادی کے نام پر مذہبی قدروں کی وسیع پیمانہ پر پامالی شروع ہو گئی۔ اس کی آخری حد وہ مجرمانہ عریانیت (criminal pornography) ہے جو اب شرمناک حد تک غیر انسانی صورت اختیار کر چکی ہے۔ تاہم
‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues