دیباچہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۷۱
ان تمام منفی پہلوؤں کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ پر قائم ہے کہ مغربی تہذیب نے اسلام اور اسلامی دعوت کے حق میں ایسے نئے امکانات کا دروازہ کھولا ہے جو اس سے پہلے کبھی موجود نہ تھے۔ مسلمان اگر خذ ما صفا، دع ما کدر کے اصول کے مطابق یہ کریں کہ وہ مغرب کے برے پہلوؤں کو نظر انداز کریں اور اس کے موافق پہلوؤں کو لے لیں تو بلاشبہ مغربی تہذیب ان کے لیے ایک عظیم نعمت ثابت ہو سکتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ وسیع تر معنوں میں اسلام کے دو پہلو ہیں ـــ اساسات اسلام، اور تائیدات اسلام۔ اساسات اسلام سے مراد اسلام کی وہ بنیادی تعلیمات ہیں جن کا ماخذ وحی الہیٰ ہے، یعنی عقائد، عبادات، اخلاقیات، اور روحانیات وغیرہ۔ اسلام کا یہ پہلو پیغمبر اسلام کے زمانہ میں آخری طور پر مکمل ہو چکا ہے۔ اس کو جاننے کے لیے قرآن وحدیث اور سیرت کا مطالعہ بالکل کافی ہے۔ اس حصہٰ اسلام میں اگر کوئی مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے تو وہ اصحاب رسول کی سنت کا اضافہ ہے۔ اس کے بعد اس حصہ اسلام میں کوئی اور اضافہ بدعت ہے، اور اسلام میں بدعت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام کا دوسرا حصہ جس کو ہم نے تائیدات اسلام کا نام دیا ہے اس کی نوعیت بالکل الگ ہے۔ یہ حصہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ اس میں غیر مومنین اور غیر مخلصین بھی مفید حصہ ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وہ بات ہے جو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان اللہ لیؤید هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری) یعنی اللہ اس دین کی تائید فاجر انسان کے ذریعہ بھی کرے گا۔
قرآن اور حدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو عظیم انقلاب برپا ہوا اس کے کچھ اجزاء ایسے تھے جو مستقبل میں تکمیل پانے والے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انقلاب محمدی نے انسانی تاریخ میں ایک عمل (process) جاری کیا۔ یہ عمل مختلف نشیب و فراز کے ساتھ مستقل جاری رہا۔ مغربی تہذیب اپنے سائنسی پہلو کے اعتبار سے اسی انقلابی عمل کا گویا ایک نقطۂ عروج (culmination) ہے۔
اس اعتبار سے اسلام کے حق میں جو مفید اسباب پیدا ہوئے ان کو چار عنوانات کے تحت بیان
‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues