دیباچہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۷۲
کیا جاسکتا ہے۔ یہ چار عنوانات یہ ہیں ۔ حفاظت اسلام ، دلائل اسلام، دعوت اسلام ،شعورِ اسلام۔ حفاظت اسلام قرآن آخری آسمانی کتاب ہے۔ اس کے بعد اب خدا کی طرف سے کوئی اور کتاب آنے والی نہیں۔ اس لیے ضروری تھا کہ اس کتاب کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا جائے۔ اس منصوبہ الہی کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ انا نحن نزلنا الذکر و انا له لحفظون (الحجر ۹) یعنی ہم نے اس قرآن کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
خدا کے قانون کے مطابق ، اس حفاظت کا نظام اسباب کے دائرہ میں کرنا تھا۔ چنانچہ ظہور اسلام کے بعد تقریباً ایک ہزار سال تک اس کی حفاظت اس طرح کی جاتی رہی کہ قرآن کا ایک ایک نسخہ لوگ اپنے ہاتھ سے لکھتے رہے اور اسی کے ساتھ حافظہ کی مدد سے اس کو یاد کرتے رہے۔ اس طرح کتابت اور حفظ کے ذریعہ اس کو محفوظ حالت میں رکھا جاتا رہا۔ مگر موجودہ زمانہ میں پریس اور پرنٹنگ کے طریقہ نے قرآن کو زیادہ مستحکم طور پر محفوظ کر دیا ہے۔ یہ جدید ذرائع تمام تر مغربی تہذیب کے زیر اثر ظہور میں آئے ہیں۔
اسی طرح ظہورِ اسلام کے بعد ہزار سالہ ابتدائی تاریخ میں کثیر تعداد میں اسلامی موضوعات پر کتا بیں لکھی گئیں ۔ حدیث ، سیرت ، تاریخ ، فقہ، اور دوسرے اسلامی علوم پر عربی زبان میں بہت بڑی تعداد میں کتا بیں لکھی گئیں ۔ یہ کتا بیں اسلام کے کلاسیکل لٹریچر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر یہ تمام کتا بیں مخطوطات کی شکل میں تھیں ۔ ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخے مختلف اسلامی کتب خانوں کی الماریوں میں محفوظ تھے۔ قدیم زمانہ میں یہ کتا بیں صرف مخصوص علماء کی دسترس تک محدود تھیں۔ آج وہ ساری دنیا میں ہر شخص کے لیے قابل حصول ہوگئی ہیں ۔ ان کتابوں کی یہ عمومی اشاعت کیسے ممکن ہوئی۔ یہ واقعہ پرنٹنگ پریس کے ذریعہ ہوا۔ مغربی تہذیب کے علمبرداروں نے پرنٹنگ پریس تیار کیا۔ انہوں نے اعلیٰ قسم کے کاغذ بنائے اور دوسری متعلق چیزیں ایجاد کیں ۔ اس طرح یہ قیمتی کتا بیں چھپ کر اور مجلد ہو کر ساری دنیا میں پھیل گئیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues