Al-Risala · December 2004 · page 73

دیباچہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۷۳

اسی طرح مغربی تہذیب کے زیر اثر ایک اہم واقعہ یہ ہوا کہ تمام قدیم کتابوں اور دستاویزات کی سائنٹفک تحقیق شروع ہوگئی۔ یہ ذوق توسیع پا کر مذاہب کی مقدس کتابوں تک پہنچ گیا۔ یہاں تک کہ اس کے لیے ایک مستقل فن وجود میں آیا جس کو تنقید عالیہ (higher criticism) کہا جاتا ہے۔

اس کے تحت قدیم مذہبی کتابوں کی تحقیق و تنقید خالص علمی انداز میں کی جانے لگی۔ اس کے ذریعہ پہلی بار یہ حقیقت واضح ہو کر لوگوں کے سامنے آئی کہ اسلام کے سوا تمام دوسرے مذاہب کی مقدس کتابیں تاریخی اعتبار سے غیر معتبر ہیں۔ صرف اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس کی مقدس کتاب کو تاریخی اعتباريت (historical credibility) حاصل ہے۔ یہ اہم واقعہ بھی مغربی تہذیب کے زیر اثر پیش آیا۔ دلائل اسلام قرآن میں آئندہ آنے والے عہد کے بارہ میں کچھ پیشین گوئیاں کی گئی تھیں۔ اُن میں سے ایک پیشین گوئی وہ ہے جو قرآن کی سورہ نمبر ۴۱ میں بیان ہوئی ہے۔ اس سلسلہ میں قرآنی آیت کا ترجمہ یہ ہے: عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے نفسوں میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے (حم السجدہ ۵۳)

قرآن کی اس پیشین گوئی کے مطابق، مستقبل میں ایسا ہونے والا تھا کہ کائنات میں چھپی ہوئی نشانیاں ظاہر ہوں اور وہ قرآن کے بیانات کی علمی تصدیق کریں۔ یہ واقعہ کب پیش آیا۔ وہ مسلم عہد میں پیش نہ آسکا۔ وہ مغربی تہذیب کے ظہور کے بعد موجودہ زمانہ میں پیش آیا۔ اس زمانہ میں مغربی سائنس دانوں نے کائنات کی تحقیق و تفتیش جدید ذرائع سے کی۔ انہوں نے دوربین اور خوردبین جیسے بہت سے طریقے ایجاد کیے جن کے ذریعہ کائنات میں چھپی ہوئی حقیقتیں ظاہر ہو کر انسانی علم کے دائرہ میں آگئیں ۔ اس موضوع پر ایک مغربی سائنس داں کی انگریزی کتاب کا ترجمہ عربی زبان میں کیا گیا ہے اور موضوع کی مناسبت سے اس کتاب کا نام بامعنی طور پر یہ رکھا گیا ہے: الله يتجلی فی عصر العلم - اس موضوع پر انگریزی زبان میں کئی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ ان میں سے دو کتابوں کے نام یہ ہیں:

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page