دیباچہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۷۴
The Evidence of God in an Expanding Universe Nature and Science speak about God راقم الحروف نے اس موضوع کا تفصیلی مطالعہ کیا ہے اور اس کے بارے میں کئی کتابیں تیار کر کے شائع کی ہیں۔ اُن میں سے ایک کتاب کا نام مذہب اور جدید چیلنج ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ عربی زبان میں الاسلام يتحدى کے نام سے شائع ہوا ہے۔ انگریزی زبان میں اس کتاب کے ترجمہ کا نام گاڈ ارائزز (God Arises) ہے۔
مذہب اور جدید چیلنج (صفحات ۲۲۰) کا موضوع خاص طور پر یہی ہے۔ وہ گویا قرآن کی مذکورہ آیت کی سائنسی تفسیر ہے۔ اس کتاب میں دورِ جدید کی سائنسی دریافتوں کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ یہ دریافتیں قرآن کی تعلیمات کی سائنسی تصدیق ہیں۔ گویا کہ جو بات پہلے وحی کے ذریعہ بتائی گئی تھی وہ اب خود علمِ انسانی کی سطح پر ثابت شدہ بن گئی۔
قرآن میں حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ آخری مرحلہ میں جب فرعون پانی میں غرق ہوا تو قرآن کے بیان کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے اس کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: فاليوم ننجيك ببدنک لتكون لمن خلفك آية (یونس ۹۲) یعنی آج ہم تیرے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے۔
جیسا کہ معلوم ہے، فرعون پانی میں ڈوب کر مرا۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ تھا کہ فرعون کا جسم اس کی موت کے بعد بھی محفوظ رہے اور بعد کے زمانہ میں ظاہر ہو کر وہ لوگوں کے لیے خدائی نشانی بنے۔ یہ واقعہ مسلم دور میں پیش نہ آسکا ۔ ہزار سالہ مسلم دور میں وہ ایک نامعلوم واقعہ بنا رہا۔ انیسویں صدی کے آخر میں پہلی بار اہل مغرب نے اس کو اہرام مصر کے اندر دریافت کیا اور جدید سائنسی طریقوں کو استعمال کر کے یہ ثابت کیا کہ یہ اسی فرعون کا جسم ہے جو حضرت موسیٰ کا ہم عصر تھا۔ (اس معاملہ کی تفصیل راقم الحروف کی کتاب عظمت قرآن میں دیکھی جاسکتی ہے) نیز ملاحظہ ہو ڈاکٹر موریس بوکائی کی کتاب : The Bible, the Qur'an and Science
‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues