دعوتِ اسلام
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۷۵
دعوتِ اسلام
اہل اسلام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خدا کے دین کی دعوت تمام انسانوں تک پہنچائیں۔ وہ اس کام کو نسل در نسل مسلسل جاری رکھیں ۔ اس کام کو مؤثر طور پر جاری رکھنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ دنیا میں مکمل مذہبی آزادی ہو۔ اور دوسرے یہ کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں، بالفاظ دیگر، داعی اور مدعو کے درمیان معتدل تعلقات قائم ہوں۔
جہاں تک مذہبی آزادی کا تعلق ہے، قدیم زمانہ میں وہ موجود نہ تھی۔ اسی صورتِ حال کو قرآن میں فتنہ کہا گیا ہے ۔ اہل اسلام کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ مذہبی عدم آزادی کی صورتِ حال کو ختم کردیں ۔ خواہ اس کے لیے انہیں مخالف طاقتوں سے لڑناپڑے۔ یہی وہ حکم ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: وقاتلوهم حتی لا تكون فتنة (اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ ) تاریخ بتاتی ہے کہ رسول اور اصحابِ رسول نے اس حکم کی تعمیل فرمائی۔ انہوں نے زبردست جدوجہد کے ذریعہ عرب اور اطرافِ عرب میں مذہبی جبر کا خاتمہ کر دیا اور مذہبی آزادی کا دروازہ کھولا۔ اس طرح پہلی بار دنیا میں مذہبی آزادی کا دور شروع ہوا۔ یہ دور ایک عمل (process) کے روپ میں تاریخ میں جاری ہو گیا۔ مغربی تہذیب نے موجودہ زمانہ میں اس عمل کو آخری حد تک پہنچا دیا۔ اب ساری دنیا میں مذہبی آزادی آگئی ۔ ہر ملک کے دستور میں مذہبی آزادی کی دفعات شامل کی گئیں ۔ اقوام متحدہ کے منشور میں مذہبی آزادی کو انسان کا ناقابلِ تنسیخ حق قرار دیا گیا اور اس پر تمام قوموں کے نمائندوں نے اپنے دستخط ثبت کیے۔
پیغمبر اسلام کے زمانہ میں صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا تھا جس نے دس سال کے لیے ٹکراؤ کا خاتمہ کر دیا۔ صلح حدیبیہ کے بعد عرب کے مسلمانوں اور غیر مسلموں میں معتدل تعلقات قائم ہو گئے اور کھلا ڈائیلاگ شروع ہو گیا۔ باہمی تعلقات کے اسی نارملائزیشن کا یہ نتیجہ تھا کہ صرف چند برسوں میں پورے عرب میں اسلام پھیل گیا۔
موجودہ زمانہ میں اقوام متحدہ اور دوسرے بین اقوامی اداروں کے ذریعہ امن اور اعتدال کی جو
‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues