Al-Risala · December 2004 · page 76

دعوتِ اسلام

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۷۶

حالت قائم ہوئی ہے وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے گویا ایک انٹرنیشنل صلح حدیبیہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں سیکولرزم کی صورت میں نا طرفداری کا جو اجتماعی اصول ساری دنیا میں رائج ہوا ہے اُس نے عملًا اُسی چیز کا تحفہ انسانیت کو دیا ہے جو اسلام کے دور اول میں صلح حدیبیہ کے ذریعہ حاصل ہوا تھا۔ اس انقلابی تبدیلی نے اب دعوتی کے تمام مواقع کھول دیے ہیں۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اندیشہ کے بغیر ہر ملک میں آزادانہ طور پر دعوت کا کام کیا جائے۔

یہ آزادی مغربی تہذیب کے زیر اثر حاصل ہوئی ۔ یہ ایک مکمل آزادی ہے۔ آزادی کے ان مواقع کو استعمال کرنے کی صرف ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ داعی کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر تشدد کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ وہ پوری طرح پر امن دائرہ میں رہتے ہوئے اپنا دعوت کام جاری رکھے۔ شعور اسلام یا اضافہ ایمان قرآن اور حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ایمان کوئی جامد چیز نہیں ، وہ ایک اضافہ پذیر چیز ہے۔ ایمان ایک پودے کی مانند ہے جو اپنے گرد و پیش کی دنیا سے غذا لے کر بڑھتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنی آخری اونچائی تک پہنچ جاتا ہے (ابراہیم ۲۴)۔ اس اضافہ ایمان کو دوسرے لفظوں میں شعوری ارتقاء (intellectual development) بھی کہا جا سکتا ہے۔

یہ اضافہ ایمان یا ازدیاد ایمان کس طرح حاصل ہوتا ہے۔ اس اضافہ کا ذریعہ خدا کی یاد ہے۔ قرآن وسنت کا مطالعہ ہے۔ کائنات میں غور کرنا ہے۔ اپنے اندر تفکر اور تدبر اور توسم کی صلاحیت کو اتنا زیادہ بیدار کرنا ہے کہ گردو پیش کی پوری دنیا آدمی کے لیے ایک وسیع دستر خوان بن جائے جس سے ربانی غذالے کر آدمی اپنی دینی شخصیت میں اضافہ کرتا رہے۔

قدیم زمانہ کے خدا پرست افراد ہمیشہ اپنے ایمان میں اس قسم کے اضافے کرتے رہتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں مغربی تہذیب کے زیر اثر جو علمی انفجار (knowledge explosion) ہوا ہے اُس نے اضافہ ایمان کی کوششوں کا دائرہ بہت زیادہ بڑھادیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پچھلے زمانہ کا انسان روایتی فریم ورک (traditional framework) کے اندر اپنے شعور کو بیدار کرسکتا تھا اور اُس کے دائرہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page