Al-Risala · December 2004 · page 77

دعوتِ اسلام

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۷۷

اضافۂ ایمان کی غذا حاصل کرتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں اس کا دائرہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ سائنٹفک فریم ورک کے زیادہ وسیع دائرہ میں اضافۂ ایمان کی خوراک حاصل کی جاسکے۔ مثال کے طور پر قدیم زمانہ کا انسان جب رات کے وقت کھلے آسمان کودیکھتا تھا تو وہ برہنہ آنکھ کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ دس ہزار ستاروں کو گن سکتا تھا۔ مزید یہ کہ جن ستاروں کو وہ دیکھتا تھا، ظاہری مشاہدہ کے مطابق، وہ ان کو آسمانی چراغ جیسی چیز سمجھتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں دوربینی مشاہدہ نے بتایا ہے کہ آسمان میں ستاروں کی تعداد اُس سے بھی زیادہ ہے جتنا کہ تمام سمندروں کے کنارے ریت کے ذروں کی تعداد۔ نیز یہ کہ یہ ستارے اُس سے بہت زیادہ بڑے ہیں جتنا کہ وہ برہنہ آنکھ سے دکھائی دیتے ہیں۔ سورج جو بظاہر بڑا دکھائی دیتا ہے وہ دوسرے ستاروں کے مقابلہ میں بہت چھوٹا ہے۔ اس طرح ستاروں کے مشاہدہ سے ایمانی غذا لینے کا دائرہ اب بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ جدید سائنسی ترقی نے بتایا ہے کہ خلائی دنیا نا قابلِ قیاس حد تک وسیع ہے۔ اُس کی وسعت دہشت ناک حد تک بڑی ہے۔ اُس کی وسعت اتنی زیادہ ہے کہ اُس کا تصور کرنے سے دماغ میں بھونچال آجائے اور جسم تھرتھرا اُٹھے۔ یہی پانی اور ہوا اور دوسری تمام کائناتى چیزوں کا معاملہ ہے۔ سائنس نے بتایا ہے کہ ہر چیز اتنی زیادہ عظیم اور عجیب ہے کہ اُس کا ابتدائی علم بھی انسان کو سراسیمہ کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اس سلسلہ میں کچھ تفصیلات حسب ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہیں: Man Does Not Stand Alone by Cressy Morrison موجودہ زمانہ میں اس قسم کی بے شمار دریافتیں ہوئی ہیں جنہوں نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ زیادہ وسیع دائرہ میں سوچے ۔ وہ زیادہ وسیع معلومات کی روشنی میں چیزوں کو دیکھ سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آج کا انسان اس پوزیشن میں ہو گیا ہے کہ وہ خدا کی تخلیقات میں زیادہ گہرائی کے ساتھ ازدیادِ ایمان کا وہ عمل کر سکے جس کو قرآن میں تفکر اور تدبر اور تو سم کہا گیا ہے۔ تفکر و تدبر کے یہ نئے مواقع کس نے پیدا کئے ۔ اس کا جواب صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ مغربی تہذیب کے تحت پیدا ہونے والی جدید سائنس نے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page