Al-Risala · December 2004 · page 78

دعوتِ اسلام

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۷۸

خلاصہ کلام

جدید مغربی تہذیب اسلام دشمن تہذیب کے طور پر نہیں ابھری وہ خود اپنی مثبت طاقت کے زور پر پیدا ہوئی ۔ تاہم اسی کے ساتھ اس میں کچھ ایسے غیر مطلوب اجزاء شامل ہو گئے جنہوں نے مغربی تہذیب اور مسلم دنیا کے درمیان تلخی پیدا کر دی ۔ اس تلخی کے اسباب دونوں طرف تھے، مغربی تہذیب کی طرف بھی اور مسلمانوں کی طرف بھی۔

مگر یہ صورت حال مسلم علماء اور دانشوروں کے لیے کوئی عذر فراہم نہیں کرتی ۔ اس نا خوشگوار صورت حال کے باوجود مسلم علماء اور مسلم دانشوروں کا فرض تھا کہ وہ مغربی تہذیب کے حقیقی پہلو اور اس کے اضافی پہلو کے فرق کو سمجھیں ۔ وہ اضافی پہلو کو نظر انداز کر کے اس کے اصل پہلو کو دیکھیں اور اس کو اپنے حق میں استعمال کریں۔

یہ غلطی جو ماضی میں کی گئی وہ بلاشبہ نہایت مہلک تھی ۔ مغربی تہذیب اسلام کی تائید کے طور پر ابھری تھی مگر اہل اسلام نے غلط فہمی کی بنا پر اس کو اپنا دشمن سمجھ لیا ۔ وہ الناس اعداء ما جهلوا کے مصداق بن گئے۔

اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس امکان کو واقعہ بنایا جائے۔ مسلم علماء اور دانشوروں کو چاہیے کہ وہ اپنی غلطی کا احساس کریں ۔ وہ اکیسویں صدی میں اس غلطی کو نہ دہرائیں جس کا ارتکاب وہ بیسویں صدی میں کرتے رہے ہیں ۔ وہ مغربی تہذیب کے پیدا کردہ مواقع کو بھر پور طور پر استعمال کر کے اسلام کی جدید تاریخ بنائیں ۔ یہ مواقع ماضی میں بھی خدا کے دین کے لیے تھے اور آج بھی وہ خدا کے دین کے لیے ہیں ۔ مسلمان صدیوں سے اونٹ اور گھوڑے پر یہ کہہ کر سواری کرتے رہے ہیں کہ : سبحان الذی سخر لنا هذا وما كنا له مقرنین ۔ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس دعا کا نیا استعمال دریافت کریں۔ وہ صنعتی دور کی طاقتوں کو کلمہ اسلام کی سربلندی کے لیے استعمال کرنے کا ثبوت دیں اور اس طرح دنیا اور آخرت میں خدا کی نصرتوں کے مستحق بنیں۔ (نئی دہلی، ۱۰ اگست ۲۰۰۴)

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page