Al-Risala · December 2004 · page 79

ایک مردِ مومن

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۷۹

ایک مردِ مومن

حیدر آباد سے جناب واسم احمد خاں ایڈوکیٹ نے ٹیلی فون پر بتایا کہ ان کے والد ڈاکٹر عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ ۱۰ ستمبر ۲۰۰۴ کو ۷۴ سال کی عمر میں انتقال کرگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ڈاکٹر صاحب موصوف کی وفات ایک سچے انسان کی وفات ہے۔ میرے ذاتی تجربہ کے مطابق، وہ اعلیٰ انسانی اوصاف کا ایک نمونہ تھے۔ وہ ان نادر انسانوں میں سے تھے جن کے بارے میں محفوظ طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس نے ان کو دیکھا اس نے گویا ایک جنتی انسان کو زمین پر چلتے پھرتے دیکھ لیا۔ ڈاکٹر عزیز احمد خاں مرحوم میں جو اعلیٰ صفات پائی جاتی تھیں ان میں سے ایک صفت وہ ہے جس کا ذاتی طور پر مجھے تجربہ ہوا۔ وہ صفت ہے، صاحب حق کی حمایت۔ دنیا میں ایسے ہزاروں لوگ ہیں جو کسی حق کو اشو بنا کر اس کے نام پر جھنڈا اٹھاتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ سب حق کے نام پر لیڈری کرنا ہے۔ مگر ایک صاحب حق کی حمایت کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہونا بلاشبہ اسلامی کردار کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔ میں ایک شخص کے کیس کو جانتا ہوں۔ وہ ایک مالیاتی زیادتی کا شکار ہوا۔ مگر سارے شہر میں کوئی بھی نہیں نکلا جو اس شخص کی حمایت میں کھڑا ہو۔ جو حقدار کی کھلی حمایت کرے اور زیادتی کرنے والے کی کھلی مذمت کرے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف پورے شہر میں واحد شخص تھے جس نے کسی بھی قسم کے انٹرسٹ کے بغیر اس حق دار آدمی کا قولی اور عملی دونوں اعتبار سے ساتھ دیا۔ انہوں نے اس معاملہ میں کسی مصلحت کی کوئی پروا نہیں کی۔

پچھلے پچاس سال سے بھی زیادہ لمبی مدت کے دوران مجھ کو جو تجربات ہوئے اس کی روشنی میں میں کہہ سکتا ہوں کہ موجودہ مسلمانوں میں میں نے ایسے لوگ بہت دیکھے جو ایک حق کے سوال کو عوامی اشو بنا کر اس پر تحریکیں چلاتے ہیں اور اس پر ہنگامے کھڑے کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کی تحریکیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے قیادت کے ہنگامے ہیں، وہ حق کی حمایت ہرگز نہیں۔ کسی حق کے اشو پر تحریکیں چلانا اور ایک حق دار فرد کی بے غرض حمایت کرنا، دونوں کے درمیان اتنا زیادہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page