ایک مردِ مومن
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۸۰
فرق ہے کہ ایک اگر بے دینی ہے تو دوسرا دین داری۔
میں کم از کم اپنے تجربہ کی حد تک کہہ سکتا ہوں کہ اپنی عمر میں میں نے شاید کسی بھی مسلمان کو نہیں پایا جو ایک حق دار فرد کے مسئلہ پر تڑپنے اور مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر اس کا بھر پور ساتھ دے۔ البتہ ہندوؤں میں میں نے اپنے تجربہ کے مطابق کئی ایسے افراد دیکھے ہیں۔ مثال کے طورپر دہلی کے رام رتن کپلا (وفات ۲۰۰۱) اور موتی لال صراف (وفات ۱۹۹۴)۔
اصلاح معاشرہ کے نام پر جلسہ جلوس کی تحریکیں چلانے سے معاشرہ کی اصلاح نہیں ہوتی۔ اس کا طریقہ صرف یہ ہے کہ جب بھی کسی فرد پر کوئی شخص زیادتی کرے تو اس میں بروقت دخل دے کر زیادتی کو ختم کیا جائے۔ زیر زیادتی شخص کی حمایت کر کے انصاف قائم کیا جائے۔ ایک اور نادر انسانی صفت جو میں نے ڈاکٹر عزیز احمد مرحوم میں دیکھی وہ ان کی تعلیمی خدمت تھی۔ دوبارہ میں کہوں گا کہ تعلیم کے اشو پر قیادت کرنے والے تو بہت ہیں مگر تعلیم کے لیے حقیقی خدمت کرنے والے بہت کم۔ انہی میں سے ایک ڈاکٹر عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ تھے۔ وہ تعلیم کی اہمیت کو بخوبی طور پر سمجھتے تھے۔ وہ اس کے لیے سچا درد رکھتے تھے۔ انہوں نے خاموشی کے ساتھ ایک بہت بڑا کام کیا۔ انہوں نے اپنے گھر کو ایک فری کوچنگ سنٹر میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے بہت سے لڑکے اور لڑکیوں کی ذاتی طور پر کوچنگ کر کے انہیں پڑھایا اور ان کو اعلیٰ تعلیم کے درجہ تک پہنچایا۔ وہ اس کام کو کسی مادی انٹرسٹ کے بغیر لمبی مدت تک چلاتے رہے۔ اس طرح محض اپنی ذاتی کوشش سے انہوں نے بہت سے گھروں کو تعلیم یافتہ بنا دیا۔ اخبار میں چھپنے والے خادمان ملت تو بہت ہیں مگر اخباری شہرت سے دور رہ کر ملی خدمت کرنے کی یہ ایک انوکھی مثال تھی جس کا مشاہدہ میں نے ڈاکٹر صاحب مرحوم کی زندگی میں کیا۔
آج ہماری ملت کو سب سے زیادہ تعلیم کی ضرورت ہے۔ اگر ملت کے صاحب حیثیت افراد ڈاکٹر عزیز احمد مرحوم کے نمونہ پر عمل کریں تو بہت تھوڑی مدت میں پوری ملت تعلیم یافتہ بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues