Al-Risala · December 2004 · page 81

ایک مردِ مومن

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۸۱

ڈاکٹر عزیز احمد خاں مرحوم کی ایک اور صفت جو میرے علم میں آئی وہ تھی_ بے غرض انسانی خدمت۔ موصوف بظاہر وکالت کے پیشہ سے تعلق رکھتے تھے مگر وکالت کے کام کو وہ زیادہ تر انسانی خدمت کے جذبہ کے تحت انجام دیتے تھے۔ موکل کا استحصال تو درکنار وہ موکل سے واجبی فیس کا تقاضہ بھی نہیں کرتے تھے۔ ان کے سامنے فیس سے زیادہ یہ ہوتا تھا کہ اپنے موکل کی پوری قانونی مدد کریں۔ اسی طرح موصوف ہومیو پیتھی کے ایک اچھے ڈاکٹر تھے۔ وہ اپنے خالی اوقات میں لوگوں کو دوائیں دیتے تھے۔ یہ کام بھی وہ کسی معاوضہ کے بغیر صرف انسانی خدمت کے جذبہ کے تحت کرتے تھے۔ مجھ سے کئی لوگوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عزیز احمد خاںکے علاج سے وہ پوری طرح شفایاب ہوگئے، جب کہ لمبے علاج کے بعد وہ اپنی صحت کے بارے میں مایوس ہو چکے تھے۔

ڈاکٹر عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ کو مطالعہ اور تحریر سے بھی دلچسپی تھی۔ چنانچہ انہوں نے کچھ کتابیں تیار کیں اور ان کو شائع کیا۔ ان کی ایک کتاب کا نام یہ ہے: اللہ کی عظمت اور قرآن کا نظریہ علم و سائنس۔

اس کتاب میں یونانی فلسفہ سے لے کر جدید دور کی سائنس تک کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس میں مذہب کے موافق اور مخالف رایوں کو لے کر مختلف تاریخی شخصیتوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس کے ایک باب کا عنوان یہ ہے: سائنس داں جو اللہ کے قائل تھے۔ اس باب میں سر آرتھر ایڈنگٹن کی کتاب سائنس اینڈ ان سین ورلڈ (Science and Unseen World) کے حوالہ سے ایک سبق آموز واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ وہ واقعہ یہ ہے:

ایک مرتبہ نیوٹن ۱۷۲۶) اپنے کمرہ میں کسی کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھا۔ اس کے سامنے نظام شمسی کا ایک دھاتی نمونہ جس کو کسی کاریگر نے بڑی مہارت اور قابلیت سے بنایا تھا، رکھا ہوا تھا۔ اس کو جب گھمایا جاتا تو تمام سیارے اپنی اپنی رفتار کے تناسب سے گھومنے لگتے تھے۔ بظاہر یہ عجیب و غریب منظر پیش کرتا تھا۔ نیوٹن کا ایک سائنس داں دوست جو ماحول سے متاثر ہو کر خدا کا منکر ہو گیا تھا، نیوٹن کے کمرہ میں داخل ہوا اور نظام شمسی کے اس نمونہ کو دیکھ کر بے اختیار پوچھا’’ اس کو کس

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page