Al-Risala · December 2004 · page 82

ثمنی پبلیکیشنز، چلکل گوڑہ، سکندر آباد، ۵۰۰۳۶۱

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۸۲

نے بنایا ہے‘، نیوٹن نے سوال سن کر اپنے دوست کی طرف دیکھے بغیر کہا’’ کسی نے بھی نہیں، سائنس داں نے کہا’’ آپ نے میرا مطلب نہیں سمجھا‘، نیوٹن نے کتاب پر سے نظریں اٹھا کر اپنے دوست سے کہا’’ نہیں کسی نے بھی نہیں بنایا، جس چیز کو تم اتنی حیرت سے دیکھ رہے ہو اس نے خود بخود اپنی یہ شکل اختیار کر لی ہے۔ ‘‘ نیوٹن کے اس جواب میں طنز تھا۔ مگر اس جواب نے سائنس داں کو مضطرب کر دیا۔ اس نے جھلاتے ہوئے کہا’’ کیا تم مجھے بیوقوف سمجھ رہے ہو۔ بے شک اس کو کسی نے بنایا ہے اور وہ بنانے والا کوئی نہایت ماہر کاریگر ہے۔ میں اس کا نام جاننا چاہتا ہوں‘‘۔ اپنی کتاب کو الگ رکھتے ہوئے نیوٹن کھڑا ہوگیا۔ اپنے دوست کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا،’’ یہ نمونہ ایک ادنیٰ نقل ہے اس شاندار نظام کا ئنات یعنی نظام شمسی کی جس کے قانون سے تم واقف ہو۔ اور میں اس قابل نہیں ہوں کہ تم کو قائل کر سکوں۔ یہ معمولی کھلونا بغیر کاریگر کے خود بخود وجود میں آیا‘‘۔ نیوٹن نے اپنے دوست سے کہا کہ’’ تم پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ تم کیسے اس نظریے پر پہنچے کہ وہ شاندار نظام بغیر خالق کے وجود میں آ گیا ہے۔ ‘‘ نیوٹن کا دوست سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہ دے سکا۔ نیوٹن نے بات جاری رکھتے ہوئے اپنے دوست کو بتایا کہ :’’ اس شاندار نظام کا خالق خدا ہے اور جو بغیر خدا کے سمجھتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔ ‘‘ (صفحہ ۱۲۸۔ ۱۲۹)

اللہ کی عظمت نامی یہ کتاب ۲۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ وہ پہلی بار فروری ۱۹۸۶ء میں چھپی۔ کتاب پر مندرجہ ذیل پتہ درج ہے :

ثمنی پبلیکیشنز، چلکل گوڑہ، سکندر آباد، ۵۰۰۳۶۱

ڈاکٹر صاحب مرحوم سے کئی بار میری خط وکتابت ہوئی تھی۔ یہ خطوط ان کی شخصیت کا تحریری تعارف ہیں۔ ڈاکٹر مرحوم کا ایک خط اور میری طرف سے اس کا جواب یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ محترمی و مکرمی مولانا وحید الدین خاں صاحب امید کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ کی خیریت ہمیشہ دیتا رہتا ہے۔ آپ کا الرسالہ (عراق نمبر) دو تین مرتبہ پڑھا۔ آپ نے جو تبصرے کیے ہیں وہ بے حد پسند آئے۔ اور شاید یہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page