Al-Risala · December 2004 · page 83

ثمنی پبلیکیشنز، چلکل گوڑہ، سکندر آباد، ۵۰۰۳۶۱

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۸۳

باتیں کسی کے ذہن و دماغ میں بھی نہ آئی ہوں۔

دوسرے یہ کہ میں بہت روز سے علیل ہوں۔ ہاتھوں میں رعشہ کی وجہ سے لکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ کئی روز سے آپ کو خط لکھنا چاہتا تھا مگر وقت کچھ انتظار میں اور کچھ دوا خانوں کے چکر میں گزر گیا۔ دعا فرمائیے کہ میں صحت یاب ہو جاؤں۔

تیسری بات یہ ہے کہ میری نواسی عزیزہ شاذراں جو آٹھ دس سال قبل دہلی آئی تھی اور آپ سے دعاؤں کا شرف بھی حاصل کر چکی ہے، اس کی شادی ۶ جولائی کو مقرر ہو گئی ہے۔ اس کی ماں کا بے حد اصرار ہے۔ میں آپ کو شادی میں آنے کی زحمت تو نہیں دے سکتا مگر آپ سے التجا کر کے آپ کی دعاؤں کا طلب گار بنوں۔

امید کہ آپ اس کی کامیاب زندگی کے لیے دعا فرمائیں گے۔ (عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ، سکندر آباد، ۲۸ جون ۲۰۰۳)

جواب

برادر محترم و مکرم ڈاکٹر عزیز احمد خاں ایڈوکیٹ السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کا خط مورخہ ۲۸ جون ۲۰۰۳ ملا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحتِ کامل عطا فرمائے۔ آپ کو ہر طرح امن اور عافیت کے ساتھ رکھے اور تمام اہل خانہ کا ہر طرح مددگار ہو۔ عزیزہ شاذراں کی شادی کی خبر سے خوشی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس رشتہ کو مبارک کرے اور کامیاب زندگی عطا فرمائے۔ میری طرف سے عزیزہ کو دعا اور مبارک باد۔

شادی زندگی کا ایک ایسا مرحلہ ہے جو ہر مرد اور عورت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے اور جب شادی خود فطرت کا قانون ہو تو خود فطرت میں اس کی ضمانت ہونی چاہیے کہ شادی طرفین کے لیے پرسکون زندگی کی ضمانت بنے۔

میرے نزدیک شادی شدہ زندگی کی کامیابی کا راز صرف ایک ہے اور وہ ایڈجسٹمنٹ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2004 All issues

Printed page