Al-Risala · February 2004 · page 24

دارالحرب کی اصطلاح

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۲۴

اصول کے خلاف ہے۔ ایسے لوگ ماضی کو پانے کے نام پر اپنے حال اور مستقبل کو بھی کھو دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہندوستان کے حق میں یہ بات پوری طرح واقعہ بن گئی ہے۔ جن ملکوں نے اپنے ماضی کو بھلا کر اپنے حال کی تعمیر کرنا چاہا، انہوں نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ اس کی ایک مثال جاپان ہے۔ جاپان نے امریکہ کی غلطیوں کی تصحیح کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان آج ایک اقتصادی سپر پاور بنا ہوا ہے۔ دوسری مثال ہندوستان کی ہے۔ ہندوستان میں ماضی کی غلطیوں کی تصحیح کی کوشش کی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان صرف ایک پچھڑا ہوا ملک بن کر رہ گیا۔ قومی ترقی کی لازمی شرط یہ ہے کہ قومی ترقی کے سوال کو اصل بنایا جائے اور بقیہ تمام چیزوں کو سیکنڈری حیثیت دے دی جائے۔ لوگوں میں یہ سوچا سمجھا ذہن موجود ہو کہ اصل اہمیت کی چیز یہ ہے کہ قومی ترقی کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہے۔ اس کے سوا جو جذباتی مسائل ہیں یا اور جو ذاتی مفروضات ہیں وہ اگر قومی ترقی کے عمل میں رکاوٹ ڈالے بغیر حاصل ہوتے ہوں تو ٹھیک، ورنہ وہ ہمیں منظور نہیں۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کی پیروی کر کے ملک کو حقیقی معنوں میں ترقی دی جا سکتی ہے، اس کے بغیر امن ممکن نہیں۔

مشہور قصہ ہے کہ ایک قاضی کے پاس ایک کیس آیا۔ ایک نوزائیدہ بچہ تھا اور دو عورتیں یہ دعویٰ کر رہی تھیں کہ وہ اُس کی ماں ہے اور اس بچہ کو اس کے حوالہ کر دینا چاہئے ۔ مگر دونوں میں سے کسی کے پاس بھی کوئی قانونی ثبوت موجود نہ تھا۔ یہ قاضی کے لیے ایک بڑا امتحان تھا۔ آخر کار اُس نے یہ حکم دیا کہ بچہ کے جسم کو بیچ سے کاٹ کر دو ٹکڑے کر دیئے جائیں اور پھر اُس کا ایک ٹکڑا ایک عورت کو دیا جائے اور اُس کا دوسرا ٹکڑا دوسری عورت کو دیا جائے۔

قاضی نے جب اپنا یہ حکم سنایا تو جو عورت بچہ کی ماں ہونے کی فرضی دعویدار تھی اِس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ مگر جو عورت بچہ کی حقیقی ماں تھی وہ چیخ اٹھی۔ اُس نے کہا کہ بچہ کو مت کاٹو۔ اُس کو تم دوسری عورت کے حوالہ کر دو۔ یہی محبت کا حقیقی معیار ہے۔ جن لوگوں کو ملک سے حقیقی محبت ہے انہیں چلا کر کہنا چاہئے کہ ہم دیش کی تباہی کو دیکھ نہیں سکتے۔ پچھلی تاریخ میں جو کچھ ہوا اُس کو ہم بھلاتے ہیں تا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page