نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۳۱
حدیث میں آیا ہے کہ: المومن لا يلدغ من جحر مرتين (مومن ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا)۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مسلمانوں نے پچھلے دو سو سال میں لاتعداد بار چھوٹے اور بڑے اقدامات کیے اور ہر بار وہ یکطرفہ ناکامی سے دوچار ہوئے۔ ایسی حالت میں اُن پر لازم ہے کہ وہ صبر کی سنت پر عمل کریں، نہ کہ اقدام کی سنت پر۔ حالات کا اندازہ کرنے میں مسلمان اگر ایک بار دھوکہ کھائیں تو وہ قابل معافی قرار پا سکتے ہیں۔ مگر حالات کا اندازہ کرنے میں بار بار دھوکہ کھانا کسی بھی حال میں اُن کے لیے قابل معافی نہیں۔
سوال
اسلام میں لے پالک یا منہ بولا بیٹا یا متبنیٰ بنانے کو حرام کیا گیا ہے۔ قرآن کی سورہ الاحزاب آیت ۴ میں یہ حکم موجود ہے۔ اس کے علاوہ اس کی بابت کئی حدیثیں آئی ہیں۔ مثلاً یہ حدیث کہ: من ادعى الى غير ابيه و هو يعلم انه غير ابيه فالجنة عليه حرام (بخاری، مسلم، ابوداؤد) یعنی جس نے اپنے آپ کو اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا کہا، حالانکہ وہ جانتا ہو کہ وہ شخص اُس کا باپ نہیں ہے، اُس پر جنت حرام ہے۔ سوال یہ ہے کہ متبنیٰ کے بارے میں اسلام میں اتنا سخت حکم کیوں ہے کہ اُس کو حرام قرار دے دیا گیا۔ (ڈاکٹر ایس اے صدیقی، نئی دہلی)
جواب
اسلام کا ایک اصول یہ ہے کہ جو فعل ناجائز ہو اُس سے مشابہت بھی جائز نہیں۔ متبنیٰ کا معاملہ یہی ہے۔ بیٹا ہمیشہ ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان جنسی تعلق کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے۔ اس تعلق کی صرف ایک ہی جائز صورت ہے اور وہ نکاح ہے۔ نکاح کے بغیر جو بیٹا پیدا ہو، وہ اُس عورت اور مرد کی جائز اولاد نہیں کہی جائے گی۔ ایسی حالت میں کسی کو اپنا منہ بولا بیٹا بنانا اور اُس کے ساتھ حقیقی بیٹے جیسا معاملہ کرنا غیر منکوحہ تعلق سے مشابہت کے ہم معنی ہے۔ اسی مشابہت سے بچنے کے لیے اُس کو حرام قرار دے دیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues