نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۳۲
سوال
ہمارے شہر میں ہر سال ماہ نومبر میں بنگ فیر لگتا ہے، جہاں اردو کا ہمارا واحد اسٹال ہوتا ہے۔ یہ بنگ فیر تقریباً ۱۸ سالوں سے لگ رہا ہے۔ وہاں آپ کی مطبوعات خصوصی دلچسپی کا باعث ہوتی ہیں۔ آپ سے اتفاق کرنے والوں کا ایک حلقہ یہاں موجود ہے۔ عام آدمی آپ کی کتابوں کو بے حد پسند کرتا ہے۔ جو لوگ جماعتوں سے جڑے ہوتے ہیں وہی لوگ تنقید کرتے ہیں ورنہ تمام پڑھے لکھے مسلمان آپ کی باتوں پر توجہ دیتے ہیں بلکہ اپنی زندگی میں ان باتوں کو استعمال کرکے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ (عبد الستار خاں، جمشید پور)
جواب
حدیث میں واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ امت کے اندر مزید جماعتیں نہ بنائی جائیں۔ قرآن میں اس کو تفرق (آل عمران ۱۰۵) کہا گیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مختلف عنوانات کے تحت جو جماعت بندیاں ہوئی ہیں وہ سب کی سب اس حکم کی خلاف ورزی ہیں۔ اس ممانعت کا سبب یہ ہے کہ جماعت کے لوگوں میں ایک عرصہ کے بعد لازمی طور پر جماعتی تعصب پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ تعصب شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ ہماری جماعت مکمل حق پر ہے۔ اب ہمیں حق کے لیے کسی اور فرد یا جماعت سے کچھ لینے کی ضرورت نہیں۔
اسی کا وہ نتیجہ ہے جو آپ نے اپنے تجربے میں پایا۔ جماعتی افراد گروہی صداقت کا ذہن رکھنے کی وجہ سے اپنی جماعت کے باہر کسی اور کتاب کو قابل مطالعہ نہیں سمجھتے۔ لیکن جو لوگ جماعتی گروہ بندی سے باہر ہیں وہ اس متعصبانہ مزاج سے آزاد ہوتے ہیں۔ اُن کا ذہن ہر وقت تیار رہتا ہے کہ جب بھی کوئی بات دلائل کے ساتھ اُن کے سامنے آئے تو وہ کسی تحفظ ذہنی کے بغیر اُس کو قبول کر لیں۔ سوال میں پچھلے دنوں دہلی میں تھا۔ ۸ مارچ ۲۰۰۲ کو وہاں آپ کے ہفتہ وار درس میں شریک ہوا۔ آپ نے قرآن کی مختلف آیتوں کو لے کر اپنی بات کی وضاحت کی۔ میری تجویز ہے کہ آپ معروف
‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues