Al-Risala · February 2004 · page 33

نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۳۳

طریقہ کے مطابق، سلسلہ وار قرآن کا درس دیں۔ اس طرح پورا قرآن لوگوں کے سامنے مجموعی طور پر آسکے گا۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، یہی طریقہ عام طور پر درس قرآن کے لیے رائج ہے۔ امید ہے کہ اس بارے میں اپنی رائے سے مطلع کریں گے۔ (سلیم احمد، سری نگر)

جواب

جیسا کہ آپ جانتے ہیں، تقریباً دو سو سال سے مسلمانوں میں درسِ قرآن کا طریقہ رائج ہے۔ خاص طور پر برصغیر ہند کی بیشتر مسجدوں میں اس پر عمل ہو رہا ہے۔ یہ درس ہمیشہ مصحفی ترتیب کے ساتھ ہوتا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ عملاً اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان درسوں میں لوگ عقیدت کے جذبہ کے تحت آتے ہیں اور ثواب اور برکت کے لیے اُن کو سنتے ہیں۔ مگر اصل مقصد لوگوں کے اندر قرآنی طرزِ فکر پیدا ہونا اور ذہنی انقلاب برپا ہونا، کسی بھی درجہ میں حاصل نہ ہوسکا۔ میں نے اس سوال پر کافی غور کیا ہے۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جہاں تک تلاوت یا تراویح یا اکیڈمک مطالعہ کا تعلق ہے، اُس میں مصحفی ترتیب ہی کی پیروی کی جائے گی۔ مگر جہاں تک اصلاح و دعوت کا تعلق ہے، دوبارہ وہی ترتیب مطلوب ہوگی جو دورِ اول میں نزولِ قرآن کے وقت مطلوب تھی۔ یعنی جیسے حالات ہوں گے، اِس کے مطابق ، قرآن کا کوئی حصہ لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ دورِ اول میں قرآن اِسی طرح حالات کے لحاظ سے اُترا۔ بعد کو اِسے موجودہ شکل میں ترتیب دے دیا گیا۔

حالات کی نسبت سے قرآنی آیتوں کے نزول کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ اِس سے مقصود تثبیت قلب (الفرقان ۳۲) ہے۔ یعنی جو قرآنی حکم لوگوں کے سامنے آئے وہ اُن کے دل میں بیٹھتا چلا جائے۔ سنتے ہی وہ اُن کے شعور کا جزء بن جائے۔ اِسی مصلحت کی بنا پر قرآن ایک وقت مکمل کتاب کی صورت میں نہیں اتارا گیا بلکہ اس طرح اتارا گیا کہ جس وقت لوگوں کے ذہن میں جو سوالات تھے، اُس کی نسبت سے انہیں رہنمائی دی گئی۔

غور و فکر کے بعد میں نے سمجھا ہے کہ اصلاح و دعوت کے لیے دوبارہ یہی انداز اختیار کیا جائے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page