Al-Risala · February 2004 · page 34

نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۳۴

سے یہ طریقہ بہت مفید ثابت ہوا ہے۔

مثال کے طور پر ۸ مارچ ۲۰۰۳ کے اجتماع میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ ایک ہندو خاتون اُس میں شریک تھیں۔ اُن کی عمر ۳۷ سال ہے اور وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ وہ ایک بڑی کمپنی میں اچھے عہدہ پر ہیں۔ ۸ مارچ کو وہ پہلی بار ہمارے درس میں آئیں۔ وہ لمبے عرصہ سے سخت ذہنی خلفشار میں مبتلا تھیں ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ تین بار خودکشی کی کوشش کر چکی ہیں جو کامیاب نہ ہو سکی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پچھلے برسوں میں بہت سے ہندو پیشواؤں اور عیسائی پادریوں سے ملیں۔ بدھ مذہب اور سکھ مذہب کے گروؤں سے بھی ملیں۔ مگر اُن کا ذہنی انتشار ختم نہ ہو سکا۔ کسی کے بتانے پر وہ میرے یہاں آئیں۔ میں نے یہ کیا کہ پہلے اُن کے ذہن کو پڑھا اور پھر اُن کے ذہن کی نسبت سے کچھ آیتوں اور حدیثوں کی تشریح کی۔

انہوں نے نہایت غور سے میری باتوں کو سنا۔ وہ ایک ماڈرن خاتون ہیں۔ لیکن شرکاء درس نے بتایا کہ ختم اجتماع پر جب وہ میرے کمرہ سے نکلیں تو وہ اس طرح رو رہی تھیں کہ اُن کے آنسو آنکھوں سے نکل کر فرش پر گر رہے تھے۔ بعد کو خاتون کے ایک ساتھی نے مجھے ٹیلی فون پر بتایا کہ انہوں نے درس کے بارہ میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری زندگی میں پہلا موقع تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ مجھ کو میرے سوالات کا جواب مل رہا ہے :

For the first time in my life I felt that my questions are being addressed. اگر میں اپنے ہفتہ وار اجتماع میں سلسلہ وار قرآن کا درس دے رہا ہوتا تو عین ممکن تھا کہ ۸ مارچ کو سلسلہ وار ترتیب میں قرآن کا کوئی ایسا حصہ اُن کے سامنے آتا جو اُنہیں اپنی بروقت سوچ کے اعتبار سے غیر متعلق معلوم ہوتا۔ مگر جب میں نے اُن کے ذہن کو سمجھ کر اُس سے متعلق آیت اور حدیث اُن کے سامنے پیش کی تو اُنہیں محسوس ہوا کہ اُن کے سوالات کو ایڈرس کیا جا رہا ہے۔ یہی وہ دعوتی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page