Al-Risala · February 2004 · page 36

نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۳۶

کوشش پہلے ہی دن خود اپنے اسٹیج پر ناکام ہو چکی ہے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ عین اسٹیج کے اوپر مسلم ارکان آپس میں ٹکرا گئے ۔ پھر جب خود مسلمان آپس میں متحد نہ ہوں تو دوسروں کو اتحاد کا پیغام دینا کیسے مؤثر ہو سکتا ہے۔

پچھلے سوسال کے اندر مسلمانوں نے بار بار اتحاد کا نفرنسیں کی ہیں۔ مگر وہ سب کے سب بے نتیجہ رہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اتحاد جلسوں اور تقریروں سے قائم نہیں ہوتا۔ اُس کے لیے کچھ اور زیادہ گہرے اسباب درکار ہیں۔ مثلاً مسلمانوں میں اختلاف کو برداشت کرنے کا مزاج، دوسرے طبقات میں یہ احساس کہ مسلمانوں کے ساتھ متحد ہو کر انہیں کوئی بڑا فائدہ مل سکتا ہے۔ اتحاد کانفرنس کے انعقاد سے پہلے اُس کے حق میں گراؤنڈ ورک، وغیرہ۔ اتحاد کے حق میں ابھی تک اس قسم کے موافق اسباب موجود نہیں۔ ایسی حالت میں اتحاد کی بات اُسی طرح ایک خیالی شاعری ہے جیسا کہ اس سے بہت پہلے اقبال نے بے نتیجہ طور پر اس طرح کی تھی:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر سوال میں engineering کی طالبہ ہوں۔ میں آپ سے دو سوالات کر رہی ہوں۔ کیا اسلام میں یہ جائز ہے کہ ہم اپنے جسم کا کوئی بھی اہم حصہ donate کر سکتے ہیں، ہمارے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد جس سے کسی دوسرے انسان کو ایک نئی زندگی ملے۔

کوئی لڑکی یا عورت کی آواز اگر سریلی ہو تو کیا وہ کسی اجتماع یا پھر کسی function کے آغاز میں حمد، نعت یا پھر کسی ترانہ کے ذریعہ اپنی آواز کو ظاہر کر سکتی ہے یا نہیں۔ براہ کرم میرے ان دو سوالوں کا جواب دیں۔ (فرح جبیں)

جواب

یہ خدا کے بنائے ہوئے قانون فطرت کا نتیجہ ہے کہ انسانی جسم کا کوئی حصہ، مثلا آنکھ، اُس کی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page