Al-Risala · February 2004 · page 37

نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۳۷

موت کے بعد بھی کسی زندہ کے کام آسکتی ہے۔ جس طرح دوسرے قوانین فطرت انسان کے لیے رحمت ہیں۔ اس طرح یہ فطری قانون بھی انسان کے لیے ایک رحمت ہے اور اُس کو ضرور استعمال کرنا چاہئے۔ یہ مرے ہوئے آدمی کی طرف سے زندہ کے لیے ایک صدقہ جاریہ ہوگا۔

میں ذاتی طور پر جلسوں کے آغاز میں نظم یا ترانہ کو غیر مفید سمجھتا ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جلسہ یا اجتماع میں سنجیدگی کا ماحول ختم ہو جاتا ہے اور تفریح لینے اور تالیاں بجانے کا ماحول قائم ہو جاتا ہے۔ اسی قسم کے رواج کا یہ نتیجہ ہے کہ ہمارا ہر اجتماع صرف ایک قسم کا شو بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسی حالت میں میرے نزدیک اس قسم کی شعر خوانی ہر حال میں نادرست ہے، خواہ وہ لڑکوں کے ذریعہ ہو یا لڑکیوں کے ذریعہ۔

سوال

الرساله دسمبر ۲۰۰۲ء صفحہ ۲۷ پر آپ نے لکھا ہے کہ یہ دنیا امتحان کے اصول پر مبنی ہے۔ عرض یہ ہے کہ اللہ نے دنیا کو اور تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے، اُس کے تخلیق کردہ بندے کیسے ہیں، اُس سے پوشیدہ نہیں۔ کس انسان میں کیا خوبی یا کمی ہے اللہ کو اچھی طرح معلوم ہے۔ پھر امتحان کیوں ضروری ہے۔ (معصوم علی، راجستھان)

جواب

اس امتحان کا تعلق علم خداوندی سے نہیں ہے۔ اس کا مقصد در اصل انتخاب (selection) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کے پورے نظام کو اسی اصول کے تحت بنایا ہے۔ یہاں ہر آدمی اپنا امتحان دے رہا ہے اور اس امتحان کے دوران ہر آدمی اپنے بارہ میں بتاتا ہے کہ کیا وہ اس قابل ہے کہ جنت کی رہائش گاہ کے لیے اُس کا انتخاب کیا جائے۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں اپنے آپ کو اس انتخاب کا اہل ثابت کریں گے وہ آخرت کی ابدی جنت میں داخل کیے جائیں گے اور جو لوگ اپنے آپ کو اُس کا اہل ثابت کرنے میں ناکام رہیں گے اُن کو نا کارہ قرار دے کر جہنم کے کوڑا خانہ میں ڈال دیا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page