نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۳۸
سوال
برائے مہربانی حدیث و قرآن کی روشنی میں اس سوال کی وضاحت کرنے کی زحمت فرمائیں کہ کسی شخص کی سن بلوغ سے قبل کی عبادات (مثلاً روزہ نماز وغیرہ) کا میدان محشر میں اس کے اعمال کے ساتھ شمار ہوگا کہ نہیں؟ بالفاظ دیگر سن بلوغ سے قبل کی عبادات حشر کے دن کام آئیں گی کہ نہیں؟ (زبیر احمد، بھاگلپور)
جواب
اس قسم کے سوالات غیر سنجیدگی ذہن کی علامت ہیں۔ سنجیدہ ذہن ہمیشہ یہ سوچے گا کہ بلوغ کے بعد میں جو عبادت کر رہا ہوں اُس کا حشر قیامت میں کیا ہوگا۔ وہ قبول ہوگی یا نہیں۔ اس کے بجائے یہ سوچنا غیر سنجیدہ کی علامت ہے کہ فلاں شخص نے بالغ ہونے سے پہلے جو نمازیں پڑھی تھیں اُس کا انجام آخرت میں کیا ہوگا۔ نماز یا کسی بھی عبادت کی قیمت اْس وقت ہے جب کہ خدا اُس کو قبول کرلے۔ اس حقیقت کا ادراک آدمی کو اتنا زیادہ اندیشہ ناک بنا دیتا ہے کہ وہ غیر متعلق سوالات میں اپنے ذہن کو مشغول نہیں کر سکتا۔
سوال
اسلامی شریعت میں قتل کی جائز تین شرطیں ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان اپنے دین سے پھر جائے تو اسے بھی قتل کیا جائے۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ (مذہب میں کوئی زبردستی نہیں) والی بات کیسے پوری ہوگی۔ اگر کوئی قوم اس کی ہوڑ میں کہے کہ ہم بھی ایسا قانون بنائیں گے کہ کوئی دوسرا مذہب قبول کرے تو اس کی سزا قتل ہوگی تو پھر وہ اسلام میں کیسے داخل ہوں گے۔ (صائمہ، بھوپাল)
جواب
مجھے اس مسئلہ سے اتفاق نہیں کہ مرتد کی سزا قتل ہے۔ اسلامی تاریخ میں کبھی صرف ارتداد کی بنا پر کسی کو قتل نہیں کیا گیا۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے جو جنگ کی تھی وہ مانعین زکوٰۃ کے خلاف
‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues