Al-Risala · February 2004 · page 39

نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۳۹

تھی ، نہ کہ معروف معنوں میں مرتدین کے خلاف۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس جنگ کا سبب ریاست سے بغاوت تھا ، نہ کہ اعتقادی طور پر مرتد ہو جانا۔

جیسا کہ معلوم ہے ، ان لوگوں نے اسلام کو ترک نہیں کیا تھا بلکہ صرف یہ کہا تھا کہ ہم اپنی زکوٰۃ کی رقم مقامی طور پر خرچ کریں گے۔ اُس کو مرکزی خلافت کے خزانہ میں نہیں دیں گے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو حضرت ابو بکر کے اس اقدام کا تعلق مرتد کے مسئلہ سے نہیں ہے بلکہ ریاست سے بغاوت کے مسئلہ سے ہے۔

اس سوال پر میں نے اپنی کتاب ” شتم رسول کا مسئلہ “ میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے۔ یہاں میں صرف ایک حوالہ نقل کروں گا۔ قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں مر جائے تو ایسے لوگوں کے عمل ضائع ہو گئے دنیا میں اور آخرت میں۔ اور وہ جہنم والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (البقرہ ۲۱۷) قرآن کی اس آیت میں واضح طور پر مرتد کا ذکر ہے مگر اس میں مرتد کی دنیوی سزا نہیں بتائی گئی ہے بلکہ صرف اُخروی سزا بتائی گئی ہے۔ اس آیت کے مطابق ، کوئی مرتد دنیا میں تو اپنی طبعی موت مرے گا۔ البتہ آخرت میں وہ اپنے گناہ کی سزا پائے گا۔

سوال

سوال یہ ہے کہ انسان کی خود داری کی اہمیت کیا ہے اور گھر والوں سے خود داری کس حد تک برتی جا سکتی ہے اور دنیا والوں سے کس حد تک۔ (حافظ محمد الیاس، بیجاپوری) جواب آج کل جس چیز کو خود داری کہا جاتا ہے اُس کی تائید میں مجھے کوئی لفظ قرآن وحدیث میں نہیں ملا۔ میں اس خود داری کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ عین وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میںحمیت جاہلیہ کا لفظ آیا ہے۔

اسلام کے نزدیک اصل مطلوب چیز خود داری نہیں ہے بلکہ خودشکنی ہے۔ حمیت نہیں ہے بلکہ

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page