Al-Risala · February 2004 · page 41

نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۴۱

صحافت کمی اصطلاح میں الٹا اہرام (inverted pyramid) کا مطلب یہ ہے کہ کسی خبر کو واقعاتی ترتیب کے بجائے الٹی طرف سے بیان کرنا۔ مثلاً قتل کا واقعہ بہت سی سرگرمیوں سے شروع ہوتا ہے اور آخر کار قتل تک پہنچتا ہے۔ مگر اخبار میں جب ایسی خبر کو چھاپا جاتا ہے تو اُس کی سرخی اس طرح لگائی جاتی ہے: شہر میں ایک قتل۔ یعنی خبر کے آخری جزء کو پہلے بیان کرنا۔

۴۔ فورتھ اسٹیٹ (fourth estate) کا لفظ پریس یا جُرنلزم کے لیے بولا جاتا ہے۔ فیوڈل دور میں پولیٹیکل پاور کے چار ستون سمجھاے جاتے تھے۔ کلر جی (clergy) نابلٹی (Nobility) اور بورژوا (bourgeoisie)۔ پھر جب پرنٹنگ کا طریقہ وجود میں آیا اور پریس (اخبارات) کی طاقت کا ظہور ہوا تو پریس کو چوتھا اسٹیٹ کہا جانے لگا۔

۵۔ اسپین اور امریکا کی جنگ (Spanish-American War) ۱۸۹۸ء میں ہوئی۔ اس کے بعد امریکا کا اسپین کا نو آبادیاتی اقتدار ختم ہو گیا۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ امریکا میں وہ چیز پیدا ہوئی جس کو ایلو جُرنلزم کہا جاتا ہے۔

سوال

ا۔ سنجیدگی سے قرآن پاک کا مطالعہ کرنے والا ایک عام قاری الرسالہ خدا کے فضل و کرم سے عمر فاروق کے قول "لیس العاقل الذی يعرف الخير من الشر ولكنه الذى يعرف خير الشرین“ کا مصداق بن پاتا ہے۔ لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ علم، تقویٰ، خلوص، خشوع اور انابت جیسی اہم خصوصیات سے متصف حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور عبدالرشید گنگوہی جیسی عظیم شخصیات جہاد بالسيف کے سلسلے میں ۱۸۵۷ء میں مولانا محمد شاہ صاحب دیوبندی کے معقول عندیہ کو کیوں سمجھ نہ سکے۔ ۲۔ ۱۹۱۲ء میں مصری عالم دین حضرت مولانا سید رشید رضا نے جو دعوتی پروگرام علماء ہند کے سامنے تجویز فرمایا تھا، آخر وہ کیا کی تھی کہ علماء اس کی طرف توجہ نہ فرما کر بس تحفظاتی کردار ادا کرتے رہے اور تا دم تحریر علماء امت کو سمجھا سمجھ کر institutional and scientific age میں قائدانہ کردار ادا نہیں کر پا رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page