نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین
الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۴۲
۳۔ علی ہذا القیاس حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی مسلمہ طور پر ایک عظیم صوفی گزرے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ”انا قایم الزمان“ کا خواب دیکھنے والا اور ”الھمنی ربی“ کا دعویٰ کرنے والا بھی عصری تقاضوں کو سمجھ نہ سکا۔
۴۔ محترم مولانا وحید الدین صاحب! آپ نے فہم دین کی نسبت سے التفکر والاعتبار، كان النہار اجمع خالياً يتفكر، واتقوا الله ويعلمكم الله ، وغیرہ کا حوالہ دیا ہے۔ متذکرہ بالا بزرگان دین میں یہ چیزیں اگر بدرجۂ اولیٰ موجود تھیں تو کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود بھی یہ لوگ مطلوب قائدانہ کردار ادا نہ کر سکے۔ (جاوید حسین وانی، اننت ناگ)
جواب
۱۔ ۱۸۵۷ء میں جن بزرگوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد بالسيف کیا، وہ میرے نزدیک اجتہادی خطا کا معاملہ تھا۔ اجتہاد کا شرعی مسئلہ یہ ہے کہ صحیح اجتہاد پر آدمی کو دو ہر ا ثواب ملے گا اور اجتہادی خطا پر ایک ثواب۔ تاہم یہ آخرت کے اعتبار سے ہے۔ جہاں تک دنیا کا تعلق ہے، تو دنیا کا نظام اسباب و علل کے اصول پر مبنی ہے۔ اجتہادی خطا کا دنیوی انجام وہی ہوگا جو اسباب کے اعتبار سے اس کا ہونا چاہیے۔ ۲۔ اُس زمانہ کے علماء کا خیال یہ تھا کہ دعوت کا کام برطانی اقتدار کے تحت نہیں ہو سکتا جو اُن کے مفروضہ تصور کے مطابق، اسلام دشمن طاقت تھی۔ مگر یہ تمام تر اجتہادی خطا کی بنا پر تھا۔ اپنی اسی اجتہادی خطا کی وجہ سے وہ رشید رضا کے مشورہ کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ انہوں نے انگریز کو دیکھا مگر وہ زمانی مواقع کو نہ دیکھ سکے جو انگریز سے بھی زیادہ بڑی طاقت کی حیثیت رکھتے تھے۔ اجتہادی خطا کی یہ مثال موجودہ زمانہ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ علماء کی حمایت سے آج مختلف مقامات پر مسلح جہاد کیا جا رہا ہے۔ یہاں بھی یہی مفروضہ ہے کہ سیاسی اقتدار کے حصول کے بغیر اسلامی دعوت کا کام نہیں کیا جاسکتا۔ مگر یہ سراسر اجتہادی خطا ہے۔ یہ لوگ جدید دعوتی امکانات سے واقف نہ تھے۔ اس لیے وہ سیاسی انقلاب کے سوا اپنے عمل کا کوئی اور نقشہ وضع نہ کر سکے۔ ۳۔ شاہ ولی اللہ دہلوی کو جو تجربہ ہوا وہ الہام یا خواب کی نوعیت کا تجربہ تھا، وہ کوئی وحی کا تجربہ نہ تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues