Al-Risala · February 2004 · page 43

نئی دہلی ۵ نومبر ۲۰۰۳ دعا گو وحید الدین

الرسالہ، فروری ۲۰۰۴، صفحہ ۴۳

جیسا کہ معلوم ہے، الہام یا خواب میں ہمیشہ یہ امکان رہتا ہے کہ آدمی اُس کی تعبیر میں غلطی کر جائے۔ تعبیری خطا کے امکان سے پاک صرف وحی ہوتی ہے، اور وحی پیغمبر کے سوا کسی اور کے پاس نہیں آتی۔ ۴۔ یہ بھی اجتہادی خطا کا معاملہ تھا۔ یہ علماء علمی اعتبار سے تقلید میں مبتلا تھے اور دینی اعتبار سے تصوف سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ ان دو اسباب کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کے اندر تفکر اور تدبر کا طریقہ رائج ہی نہ ہو سکا۔ وہ اپنے اخلاص کی بنا پر یقیناً آخرت میں جنت کے مستحق قرار پائیں گے مگر اُن کی اس اجتہادی خطا نے اُنہیں بصیرت زمانہ سے محروم کر دیا۔ ایسی حالت میں اسباب و علل کی اس دنیا میں اُن کی کوششوں کا وہی نتیجہ ہو سکتا تھا جو ہوا۔

سوال

رسول اللہ ﷺ کا ہر عمل خواہ کسی شعبہ سے تعلق رکھتا ہو سنت ہے، جیسا کہ علماء فرماتے ہیں۔ مگر آپ ﷺ کی پوری حیات طیبہ کو یعنی آپ کے تمام اعمال و کردار کو اسی طرح ہمہ وقت سامنے نہیں رکھا جاتا جس طرح آنجناب کی چند مشہور سنتوں کو مکمل طور پر برتا جاتا ہے۔ یعنی علماء بطور خاص اور عوام بطور عام اسی طریقہ پر عمل پیرا ہیں۔ مثلاً داڑھی بڑھانا سنت ہے۔ اس پر اتنا زیادہ زور ہے کہ لگتا ہے یہ سنت فرض ہے۔ میرا مقصد خدانخواستہ گنجائش ڈھونڈ نا نہیں ہے۔ اس کے بالمقابل سر کے بال رکھنے میں بھی آنجناب کی سنت موجود ہے۔ اس کا ذکر و تذکرہ بہت کم ہوتا ہے۔ برائے کرم اس کی وضاحت فرمائیں۔ (عبدالواحد، جگادھری)

جواب

داڑھی اور مونچھ وغیرہ کے بارہ میں جو سنتیں بتائی جاتی ہیں وہ بلاشبہ سنت ہیں۔ مگر سنت رسول کے تذکرہ کے ذیل میں اسی قسم کی جزئی چیزوں کو بیان کرنا کافی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ عمل سنت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔ اس اعتبار سے دعوت بھی سنت ہے، صبر بھی سنت ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے عام طور پر ان سنتوں کو چھوڑ رکھا ہے۔ حتیٰ کہ اگر انہیں یہ یاد دلایا جائے کہ تم غیر مسلموں کو اسلام کا پیغام مثبت طور پر پہنچاؤ اور اگر ان کی طرف سے کوئی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2004 All issues

Printed page